کے لئے دروازہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے۔‘‘؎۱ اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگین جاؤ ’’میرے دل میں یہ بات آئی ہے کہ الحمد اللہ رب العالمین الرحمن الرحیم مالک یوم الدین  سے یہ ثابت ہے کہ انسان ان صفات کو اپنے اندر لے۔یعنی اللہ تعالیٰ کے لئے ساری صفتیں سزاوار ہیں ،جو رب العالمین ہے۔یعنی ہر عالم میں نطفہ میں مضغہ وغیرہ سارے عالموں میں۔غرض ہر عالم میں پھر رحمن ہے پھر رحیم ہے اور مالک یوم الدین ہے۔اب ایاک نعبد جو کہتا ہے ،تو گویا اس عبادت میں وہی ربوبیت ،رحمانیت،رحیمیت،اور مالکیت صفات کا پر تو انسان کو اپنے اندر لینا چاہیے ۔کمال عبد انسان کا یہی ہے کہ تخلقو با خلاق اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگین ہو جاوے اور جب تک اس مرتبہ تک پہنچ نہ جاوے نہ تھک ہارے۔اس کے بعد خود ایک کشش اور جذب پیدا وہ جاتا ہے جو عبادت الہی کی طرف اسے لے جاتا ہے۔اور وہ حالت اس پر وارد ہو جاتی ہے جو یفعلون ما یو مرون(النحل:۵۱)کی ہوتی ہے۔‘‘؎۲ ۳۰؍اکتوبر۱۹۰۰؁ء حسب معمول حضرت اقدس امام ہمام علیہ السلام کو تشریف لے گئے،راستہ میں فرمایا: نبوت اور قرآن شریف کی کلید میرے دعویٰ کا فہم کلید ہے نبوت اور قرآن شریف کی۔جو شخص میرے دعویٰ کو سمجھ لے گا،نبوت کی حقیقت اور قرآن  شریف کے فہم پر اس کو اطلاع دی جاے گی اور جو میرے دعویٰ کو نہیں سمجھتا۔ اس کو قرآن شریف پر اور رسالت پر پورا یقین نہیں ہو سکتا۔ اتباع امام قرآن شریف میں جو یہ آیت آئی ہے افلا ینظرون الی الابل کیف خلقت(الغاشیہ:۱۸)یہ آیت نبوت اور امت کے مسئلے کوکو حل کرنے کے واسطے بڑی معاون ہے۔اونٹ کی عربی زبان میں ہزار کے قریب نام ہیں اور پھر ان ناموں میں سے ابل کے لفظ کو جو لیا گیا ہے۔اس میں کیا سر ہے؟ کیوں الی الجمل بھی تو ہو سکتا ہے؟ اصل بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ جمل ایک اونٹ کو کہتے ہیں اور ابل اسم جمع ہے۔یہاں اللہ تعالیٰ کو چونکہ تمدنی اور اجماعی حالت کا دکھانا مقصود تھا اور جمل میں جو ایک اونٹ پر بولا جاتا ہے۔یہ فائدہ حاصل نہ ہوتا