انسان حقیقی معرفت کے چشمے میں اس دن غوطہ مارتا ہے۔جس دن خدا تعالیٰ اس کو مخاطب کر کے انا الموجود کی اس کو خود بشارت دیتا ہے۔تب انسان کی معرفت سرف اپنے قیاس ڈھکو سلہ یا محج منقولی خیالات تک محدود نہیںرہتی۔بلکہ خدا تعالیٰ سے ا یسا قریب ہو جاتا ہے کہ گویا اس کو دیکھتا ہے اور یہ سچ اور بالکل سچ ہے کہ خدا تعالیٰ پر کامل ایمان اسی دن اس کو نصیب ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے وجود سے آپ خبر دیتا ہے اور پھر دوسری علامت خدا تعالیٰ کی محبت کی یہ ہے کہ اپنے پیارے بندوں کو صرف اپنے وجود ہی کی خبر نہیں۔بلکہ اپنی رحمت اور فضل کے آثار بھی خاص طور پر ان پر ظاہر کرتا ہے اور وہ اسی طرح پر کہ ان کی دعائیں جو ظاہری امیدوں سے بڑھ کر ہوں۔ قبول فرما کر اپنے الہام اور کلام کے ذریعہ سے اب کو اطلاع دیتا ہے۔تب ان کے دل تسلی پکڑ جاتے ہیں کہ یہ ہمارا قادر خدا ہے جو ہماری دعائیں سنتا ہے اور ہم کو اطلاع دیتا ہے اور مشکلات سے ہم کو نجات دیتا ہے۔اسی روز سے نجات کا مسئلہ بھہ سمجھ میں آجاتا ہے اور خدا تعالیٰ کے وجود کا بھی پتہ لگتا ہے؛اگرچہ جگانے اور متنبہ کرنے کے لئے کبھی کبھی غیروں کو بھی سچی خواب آسکتی ہے۔مگر اس طریق کا مرتبہ اور شان اور رنگ ہیں ۔یہ خدا تعالیٰ کا مکالمہ ہے جو خاص مقربوں سے ہی ہوتا ہے اور جب مقرب انسان دعا کرتا ہے ؛تو خدا تعالیٰ اپنی خدا ئی کے جلال کے ساتھ اس کی تجلی فرماتا ہے اور اپنی روح اس پر نازل کرتا ہے اور اپنی محبت سے بھرے ہوئے لفظوں کے ساتھ اس کو قبول دعا کی بشارت دیتا ہے اور جس کسی سے یہ مکالمہ کثرت سے وقوع میں آتا ہے اس کو نبی یا محدث کہتے ہیں۔ سچے مذہب کی علامت اور سچے مذہب کی یہی نشانی ہے کہ اس مذہب کی تعلیم سے ایسے راستباز پیدا ہوتے ہین جو محدث کے درجے تکپہنچ جائیں جن  سے خدا تعالیٰ آمنے سامنے کلام کرے اور اسلام کی حقیقت اور حقانیت کی اول نشانی یہی ہے کہ اس میں ہمیشہ ایسے راستبازجن سے خدا تعالیٰ ہم کلام ہو پیدا ہوتے ہیں تتنزل علیہم الملئکۃ الا ولا تخا فو اولا تحزنوا(حم السجدہ:۳۱)سو یہی معیار حقیقی سچے اور زندہ اور مقبول مذہب کا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ اس روشنی سے بے نصیب ہیں اور ان مذاہب کے بطلان کے لئے یہی دلیل ہزار دلائل سے بڑھ کر ہے کہ مردہ ہر گز زندہ کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور نہ اندھا سو جا کھے کے ساتھ پورا اتر سکتا ہے(ونعم ما قیل) کوئی مذہب نہیں ایسا کہ نشاں دکھلائے یہ ثمر باغ محمد سے ہی کھایا ہم نے ’’یہ عاجز تو محض اس غرض کے لئے بھیجا گیا ہے کہ تا یہ پیغام خلق اللہ کو پہنچا دے کہ تمام مذاہب موجودہ میں سے وہ مذہب حق پر اور خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہے جو قرآن کریم لایا ہے اور دارالنجاۃ میں داخل ہونے