معجزات کے اقسام معجزات مسیح ؑ پر گفتگو کے سلسلے میں فرمایا:کہ
’’معجزات تین قسم کے ہوتے ہیں۔دعائیہ ارہاصیہ اور قوت قدسیہ کے
معجزات ارہاصیہ میں دعا کو دخل نہیں ہوتا ۔قوت قدسیہ کے معجزات ایسے ہوتے ہیں ،جیسے رسول اکرم صلی ا للہ علیہ والہ وسلم نے پانی میںانگلیاں رکھ دیں تھیں اور لوگ پانی پیتے چلے گئے یا کنویں میں لعاب مبارک گرا دیا اور اس کا پانی میٹھا ہو گیا۔مسیح کے معجزات اس قسم کے بھی تھے۔خود ہم کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ’’بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔‘‘؎۲
۲۴؍اکتوبر۱۹۰۰ء
علم توجہ اور توجہ انبیاء میں فرق توجہ اور انبیاء علیہم السلا م کی دعا میںعظیم الشان فرق ہوتا ہے۔وہ توجہ جو مسمر یزم والے کرتے ہیں۔وہ ایک کسب
ہے۔اور وہ توجہ جو دعا سے پیدا ہوتی ہے ایک موہبت الہی ہے۔نبی چونکہ بنی نوع انسان کی ہمدردی سے متاثر ہو جاتا ہے ،تو خدا تعالیٰ اس کی فطرت کو ہمہ توجہ بنا دیتا ہے اور اس میں قبولیت کا نفخ رکھ دیتا ہے۔‘‘؎۲
مقربان الہی کی علامت ؎ آن خدائے کہ ازو اہل جہاں بے خبر اند
برمن او جلوہ نمود ست گر اہلی بپذیر
(مسیح موعودؑ)
’’یہ تو ہر ایک قوم اک دعویٰ ہے کہ بہتیرے ہم میں سے ہیں کہ خدائے تعالیٰ سے محبت رکھتے ہیں،مگر ثبوت طلب یہ بات ہے کہ خدا تعالیٰ ان سے محبت رکھتا ہے کہ نہیں؟اور خدا تعالیٰ کی محبت یہ ہے کہ پہلے تو ان دلوں سے پردہ اٹھا دے گا،جس پردہ کی وجہ سے اچھی طرح انسان خدا تعالیٰ کے وجود پر یقین نہیں رکھتا اور ایک دھندلی سی اور تاریک معرفت کے ساتھ اس کے وجود کا قائل ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات امتحان کے وقت اس کے وجود سے ہی انکار کر بیٹھتا ہے اور یہ پردوہ اٹھایا جانا بجز مکالمہ الیہیہ کے اور کسی صورت میں میسر ہیں آسکتا۔پس