۲۱؍اکتوبر۱۹۰۰؁ء ایک اہم پیش گوئی صبح کی سیر میں علماء سوء کی حالت پر افسوس کرتے ہوئے فرمایا: کہ ’’کوئی ایسا آدمی ہو جو ان کو جا کر سمجھا دے اور کہے کہ تم کوئی نشان مل کر  صدق دل سے دیکھو ۔‘‘پھر فرمایا۔’’یہ لوگ کم ہی امید ہے کہ تجوع کریں،مگر جو آئیندہ ذریت ہو گی،وہ ہماری ہی ہو گی۔‘‘؎۱ ۲۴؍اکتوبر۱۹۰۰؁ء دوزخ عارضی ہے اور بہشت دائمی صبح کی سیر میں دوزخ بہشت کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا:کہ قرآن شریف میں جہاں کہیں اللہ تعالیٰ نے بہشت کا ذکر فرمایا ہے،وہاں بہشت کے انعامات کی نسبت عطا غیر مجذوذ(ہود:۱۰۹)فرمایا ہے اور ہونا بھی ایسا ہی چاہیے تھا۔اور اگر ایسا نہ ہوتا تو امید نہ رہتی اور مایوسی پیدا ہوتی۔اس لئے کہ بہشت کے دوامی انعاموں کو دیکھ کر مسرت بڑھتی ہے اور دوزخ کے ایک معین عرصہ تک ہونے سے امید پیدا ہوتی ہے۔جیسے کے ایک شاعر نے اس کو یوں بیان فرمایا ہے ؎ گو یند کہ بحشر جستجو خواہد بود واں یار عزیز تند خو خواہد بود از خیر محض شرے نیاید ہر گز خوش باش کے انجام نکو خواہد بود ہمارا ایمان یہی ہے کہ دوزخ میں انسان ایک عرصہ تک رہیں گے،پھر نکل آئیں گے ۔گویا جن کی اصلاح نبوت سے نہیں ہوسکی،ان کی اصلاح دوزخ کرے گا۔حدیث میں آیا ہے۔یاتی علے جہنم زمان لیس فیھا احد۔یعنی جہنم پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اس میں کوئی متنفس نہیں ہوگا اور نسیم صبا اس کے دروازوں کو کٹھکھٹائے گی۔؎۲