جو سورۃ فاتحہ کو الحمد اللہ رب العالمین الرحمن الرحیم مالک یوم الدین اسماء سے شروع کیا ہے ،تو اس میں کیا راز تھا۔چونکہ بعض قومیںاللہ تعالیٰ کی ہستی پر اس کی صفات رب الرحیم رحمن ملک یوم الدین سے منکر تھیں۔اس لئے اس طرز کو لیا۔یہ یاد رکھو کہ جس نے قرآن مجید کے الفاظ اور فقرات کو جو قانونی ہیں،ہاتھ میں نہیں لیا۔اس نے قرآن کا قدر نہ سمجھا ۔
اب دیکھو یہاں خالق العالمین نہیں فرمایا۔بلکہ رب العالمین فرمایا اور رب العالمین اس لئے بھی فرمایا تا کہ یہ ثابت کر کے وہ بسائط اور عالم امر کا بھی رب ہے۔کیونکہ بسیط چیزیں امر سے ہیں اور مرکب خلق سے،اس لئے کہ بعض قومیں ربوبیت کی منکر ہیں اور کہتی ہیں کہ ہم کو جو کچھ ملتا ہے مثلاً اگر دودھ ملتا ہے ،تو اگر ہم کوئی گناہ کر کے گائے بھینس وغیرہ کی جون میں نہ جاتے ،تو دودھ ہی نہ ہوتا اور خلق چونکہ قطع و برید کرنے کا نام ہے ۔اس لئے اس موقعہ پر رب العالمین کو جو اس سے افضل تر ہے۔بیان فرمایا،اسی طرح پر رحمانیت ۔رحیمیت کے منکر دنیا میں موجود ہیں۔
غرض قرآن کریم مذاہب باطلہ کے عقائد فاسدہ کو مد نظر رکھ کر ایک سلسلہ شروع فرماتا ہے۔اسی طرح پر اس قصہ میں حضرت سلیمانؑ کی بریت منظور ہے۔اور ان کو اس ناپا ک الزام سے بری کرنا مقصود ہے۔جو ان پر لگایا جاتا ہے کہ وہ بت پرست تھے۔خدا تعالیٰ نے فرمایا :وما کفر سلیمن سلیمان نے کفر نہیں کیا۔؎۱
۲۰؍اکتوبر۱۹۰۰ء
دو قسم کی مخلوق مولوی جمال الدین صاحب سید والہ نے اپنے واقعات سنائے۔جس پر حضرت مسیح موعود ؑ نے فرمایا:
’’آج میں اید نا ہ بروح القدس(البقرہ:۸۸)کی بحث لکھتا تھا۔جس میں میں نے بتایا ہے کہ مسیح کی کوئی خصوصیت نہیں۔روح القدس کے فرزند وہ تمام سعادت مند اور راستباز لوگ ہیں۔جس کی نسبت قرآن شریف میں ان عبادی لیس لک علیہم سلطان (الحجر:۴۳)وارد ہے۔اور قراان کریم سے دو قسم کی مخلوق ثابت ہوتی ہے۔اول وہ جو روح القدس کے فرزند ہیں اور بن باپ پیدا ہونا کوئی خصوصیت نہیں۔ دوم شیطان کے فرزند۔؎۲