اس وقت قلم کی ضرورت ہے اس وقت جو ضرورت ہے ۔وہ یقیناً سمجھ لو۔ سیف کی نہیں بلکہ قلم کی ہے۔ ہمارے مخالفین نے اسلام پر جو شبہات وارد کیے ہیں اور مختلف سائنسوں اور مکاید کی رو سے اللہ تعالیٰ کے سچے مذہب پر حملہ کرنا چاہا ہے۔ اس نے مجھے متوجہ کیا ہے کہ میں قلمی اسلحہ پہن کر اس سائینسی اور علمی ترقی کے میدان کارزار میں اتروں اور اسلام کی روحانی شجاعت اور باطنی قوت کا کرشمہ بھی دکھلاؤں۔ میں کب اس میدا ن کے قابل ہو سکتا تھا ۔یہ تو صرف اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور اس کی بے حد عنایت ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ میرے جیسے عاجز انسان کے ہاتھ سے اس کے دین کی عزت ظاہر ہو ۔میں نے ایک وقت ان اعتراضات اور حملات کو شمار کیا تھا ۔جو اسلام پر ہمارے مخالفین نے کیے ہیں ،تو ان کی تعداد میرے خیال اور اندازہ میں تین ہزار ہوئی تھی اورمیں سمجھتا ہوں کہ اب تو تعداد اور بھی بڑھ گئی ہو گی۔ کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ اسلام کی بنا ایسی کمزور باتوں پر ہے کہ اس پر تین ہزار اعتراض وارد ہو سکتا ہے۔ نہیں ایسا ہر گز نہیں۔ یہ اعتراضات تو کو تاہ اندیشوں اور نادانوں کی نظر میں اعتراض ہیں، مگر میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ میں نے جہاں جہاں اعتراضات کو شمار کیا ، وہاں یہ بھی غور کیا ہے کہ ان اعتراضات کی تہہ مین دراصل بہت ہی نادر صداقتیں موجود ہیں۔ جو عدم بصیرت کی وجہ سے معتر ضین کو دکھا ئی نہیں دیں اور درحقیقت یہ خدا تعالیٰ کی حکمت ہے کہ جہاں نابینا معترض آکر اٹکا ہے ،وہیں حقائق اور معارف کو مخفی خزانہ رکھا ہے۔ مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض اور خدا تعالیٰ نے مجھے مبعوث فرمایا کہ میں ان خزائن مدفونہ کو دنیا پر ظاہر کروں اور ناپاک ا عتراضات کا کیچڑ جو ان درخشاں جوہرات پر تھوپا گیا ہے۔ ان سے ان کو پاک صاف کروں۔ خدا تعالیٰ کی غیرت اس وقت بڑی جوش میں ہے کہ قرآن شریف کی عزت کو ہر ایک خبیث دشمن کے داغ اعتراض سے منزہ ومقدس کرے۔ الغرض ایسی صورت میں کہ مخالفین قلم سے ہم پر وار کرنا چاہتے ہیں اور کرتے ہیں ۔کس قدر بے وقو فی ہو گی کہ ہم ان سے اٹھم اٹھا ہونے کو تیار ہو جائیں ۔میں تمہیں کھول کر بتاتا ہوں کہ ایسی صور ت میں اگر کوئی اسلام کا نام لے کر جنگ وجدل کا طریق جواب میں اختیار کرے۔ تو وہ اسلام کو بد نام کرنے والا ہو گا۔اور اسلام کا کبھی بھی ایسا منشاء نہ تھا کہ بے مطلب اور بلا ضرورت تلوار اٹھائی جائے۔ اب لڑائیوں کی اغراض جیسا کہ میں نے کہا ہے۔ فن کی شکل میں آکر دینی نہیں رہیں۔ بلکہ دنیوی اغراض ان کا موضوع ہو گیا ہے۔ پس کس قدر ظلم ہو گا کہ اعتراض کرنے والوں کو جواب دینے کی بجائے تلوار دکھائی جائے ۔اب زمانہ کے ساتھ حرب کا پہلو بدل گیا ہے۔ اس لئے ضرورت ہے کہ سب سے پہلے اپنے دل اور دماغ سے کام لیں اور نفوس کا تزکیہ کریں ۔راستبازی اور تقویٰ سے خدا تعالیٰ سے امداد اور فتح چاہیں۔یہ خدا تعالیٰ کاایک اٹل قانون اور مستحکم اصول ہے اور اگر مسلمان صرف قیل وقال اور باتوں سے مقابلہ میں کامیابی اور فتح پانا چاہیں۔ تو یہ ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ لاف و گزف اور لفظوں کو نہیں چاہتا وہ توحقیقی تقویٰ کو چاہتا اور سچی طہارت کو پسند