۱۷؍اکتوبر۱۹۰۰؁ء کی صبح کو حضرت اقدس علیہ السلام حسب معمول سیر کو تشریف لے گئے۔اور فرمایا: کشف اور الہام کی درمیانی حالت ’’بہت دفعہ ایسا اتفاق ہوتا ہے کہ پیغمبر خدا رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم ایک بات بتلاتے ہیں۔میں اس کو  سنتا ہوں،مگر آپ کی سورت نہیں دیکھتا ہوں۔غرض یہ ایک حالت ہوتی ہے جو بین الکشف والالہام ہوتی ہے۔‘‘ مسیح موعود کے دو نشان رات کو آپ نے مسیح موعوؑ کے بارے میں یہ فرمایا: ’’یجع الھرب و یصا لح الناس۔یعنی ایک طرف تو جنگ وجدال  اور حرب کو اٹھا دیا جائے گا۔دوسری طرف اندرونی طور پر مسالحت کرا دے گا۔گویا مسیح موعودؑ کے لئے دو نشان ہوں گے۔اور بیرونی نشان کے حرب نہ ہوگی۔دوسرا اندرونی نشان کہ باہم مصالحت ہو جاوے گی۔پھر اس کے بعد فرمایا۔سلمان منا اھل البیت سلمان یعنی صلحیں اور پھر فرمایا علی مشرب الحسن یعنی حضرت حسن میں بھی دو ہی صلحیں تھیں۔ایک صلح تو انہوںنے حضرت معاویہ کے ساتھ کر لی۔دوسری صحابہ کی باہم صلح کرا دی۔اس سے معلوم ہوا کہ مسیح موعودؑ حسنی ا لمشرب ہیں۔ حجج الکرامہ میں نواب صدیق حسن خان نے لکھا ہے کہ بعض روایتوں میں آیا ہے کہ مہدی حسنی ہو گا۔اس کے بعد فرمایا۔حسن کا دودھ پئے گا۔جو لوگ کہتے ہیں کہ مہدی آپ کی آل میں سے ہو گا ۔یہ مسئلہ اس الہام سے حل ہو گیا اور مسیح موعود کا جو مہدی بھی ہے کام بھی معلوم ہو گیا۔پس وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ آتے ہی تلوار چلائے گا اور کافروں کو قتل کرے گا۔جھوٹے ہیں۔اصل بات یہی ہے جو اس الہام میں بتلائی گئی ہے۔کہ وہ دو صلحوں کا وارث ہو گا۔یعنی بیرونی طور پر بھی صلح کرائے گا اور اندرونی طور پر بھی مصالحت ہی کرا دے گا اور آل کا لفظ اپنے اندر ایک حقیقت رکھتا ہے اور وہ یہ ہے کہ آل چونکہ وارث ہوتی ہے۔اس لئے انبیاء علیہم السلام کے وارث یا آل وہ لوگ ہوتے ہیں،جو ان کے علوم کے روحانی وارث ہوں۔اسی واسطے کہا گیا ہے کہ کل تقی و نقی الی۔ آیت ما کفر سلیمان کی تفسیر مولوی جمال الدین صاحب ساکن سید والہ نے قرآن کی اس آیت کی تفسیر پوچھی۔ما کفر  سلیمن(البقرہ:۱۰۳)فرمایا:بعض نابکار قومیں حضرت سلیمان علیہ السلام کو بت پرست کہتی ہیں۔اللہ تعالیٰ اس آیت میں ان کی تر دید کرتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ قرآن مجید واقعات پر بحث کرتا ہے۔اور قرآن کل دنیا کی صداقتوں کا مجموعہ ہے۔اور سب دین کی کتابوں کا فخر ہے۔جیسے فرمایا ہے۔فیہا کتب قیمۃ اور یتلو صحفاً مطھرۃ(البینۃ:۳)پس قرآن کریم کے معنی کرتے وقت خارجی قصوں کو نہ لیں،بلکہ واقعات کو مد نظر رکھنا چاہیے۔مثلاً قرآن کریم نے