آدم علیہ السلام عصر کے وقت چھٹے دن پیدا ہوا تھا۔اس وقت مشتری کا دورہ ختم ہو کر زحل کا شروع ہونے والا تھا۔چونکہ زحل کی تاثیرات خونریزی اور سفاکی کی ہیں۔اس لئے ملائکہ نے اس خیال سے کہ یہ زحل کی تاثیرات کے اندر پیدا ہو گا۔یہ کہا۔اتجعل فیھا من یفسد فیہا(البقرہ:۳۱)اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جس طرح انسان ارضی تاثرات اور بوٹیوں کے خواص سے واقف ہوتا ہے۔اسی طرح پر آسمانی تاثیرات سے باخبر ہو تی ہے۔ بہترین دعا پھر فرمایا:ایاک نعبد میں جہاں الرب۔الرحمن۔الرحیم۔مالک یوم الدین(الفاتحہ:۲۔۳۔۴)کے حسن احسان کی طرف تحریک ہوتی ہے۔وہاں  انسان کے عاجزی اور بے کسی بھی ساتھ ہی محرک ہوتی ہے۔اور وہ ایاک نستعین کہہ اٹھتا ہے۔بہترین دعا وہ ہوتی ہے جو تمام خیروں کی جامع ہو اور مانع ہو تمام مضرات کی۔اس لئے انعمت علیہم کی دعا میں حضرت آدمؑ سے لے کر آنحضرت ؐ کے زمانہ تک کہ کل منعم علیہم لوگوں کے انعامات کے حصول کے لئے دعا ہے۔اور غیر المغضوب علیہم الا الضالین میں ہر قسم کی مضرتوں سے بچنے کی دعا ہے۔ اسلام تلوار سے نہیں پھیلا اسلام کی نسبت جو کہتے ہیں کہ تلوار سے پھیلا ہے۔یہ بالکل غلط ہے۔اسلام نے تلوار اس وقت تک نہیں اٹھائی جب تک کہ  سامنے تلوار نہیں دیکھی۔قرآن شریف میں صاف طور پر لکھا ہے کہ جس قسم کے ہتھیاروں سے دشمن اسلام پر حملے کرے،اسی قسم کے ہتھیار استعمال کرو۔مہدی کے بارے میں کہتے ہیں کہ آکرتلوار سے کام لے گا۔یہ صحیح نہیں ہے۔اب تلوار کہاں ہے جو نکالی جاوے۔پھر افسوس تو یہ ہے کہ باوجود یکہ مسیح ان لوگوں کے مسلمات کو تسلیم کرے گا اور فرشتوں کے ساتھ آسمان سے اترے گا،مگر پھر بھی اس پر کفر کا فتویٰ دیا جائے گا۔جیسا کہ کتابوں سے ثا بت ہے بلکہ ایک شخص اٹھ کر کہہ دے گا ۔ان ھذا الرجل غیر دیننا۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری جماعت کے لوگ ان دلائل سے باخبر ہوں،تاکہ ان کو کسی محفل میں شرمندہ نہ ہونا پڑے۔میر محمد سعید صاحب حیدر آبادی اور یعقوب علی صاحب اور چند دوست ایسی کتابیں سوال و جواب کے طور پر تالیف کریں جو ہمارے مقاصد کے لئے ہوں اور مدرسہ میں رائج کی جاویں۔‘‘؎۱