بالہدیٰ (الصف:۱۰)کی تکمیل مسیح موعود کے زمانہ میں ہوگی۔اور جبکہ ہدایت کی تکمیل چھٹے دن ہوئی تو اشاعت ہدایت کی تکمیل بھی چھٹے دن ہی ہونی چاہیے تھی اور قرآنی دن ایک ہزار برس کا ہوتا ہے۔گویا مسیح موعود چھٹے ہزار میں ظاہر ہو گا۔
مہدی کی حدیثوں کی نسبت فرمایا کہ سلطنت کے خیال سے وضع کی گئی تھیں۔
قرآن ہی پڑھنے کے قابل ہے ۔کیونکہ قرآن کے معنی ہی یہ ہیںآریوں نے قرآن کریم کے الفاظ نہ سمجھنے ہی کی وجہ سے خیر الماکرین الفاظ پر اعتراض کئے ہیں؛حالانکہ خود دید میں اندر کو بڑا مکار لکھا ہے۔؎۱
قرآن کے نام میں پیش گوئی اگر ہمارے پاس قرآن نہ ہوتا اور حدیثوں کے یہ مجموعے ہی مایہ ناز ایمان واعتقاد ہو تے ،تو ہم قو موں کو شر مساری سےمُنہ بھی نہ دکھاسکتے ۔ میں نے قرآن کے لفظ میں غور کی ۔تب مجھ پر کھلا کہ اس مبارک لفظ میں ایک زبر دست پیش گوئی ہے۔وہ یہ ہے کہ یہی قرآن پڑھنے کے لائق کتاب ہے اور ایک زمانہ میں تو اور بھی زیادہ پڑھنے کے لائق کتاب ہو گی۔جبکہ اور کتابیں بھی اس کے ساتھ پڑھنے میں شریک کی جائے گی۔اس وقت اسلام کی عزت بچانے کے لئے اور بطلان کا استیصال کرنے کے لئے یہی کتاب پڑھنے کے قابل ہو گی اور دیگر کتابیں قطعاً چھوڑ دینے کے لائق ہوں گی۔فرقان کے بھی یہی معنی ہیں۔یعنی یہی ایک کتاب حق وباطل میں فرق کرنے والی ٹھہرے گی۔اور کوئی حدیث کی یا او ر کوئی کتاب اس حیثیت اور پایہ کی نہ ہو گی۔اس لئے اب سب کتابیں چھوڑ دو اور دن رات کتاب اللہ ہی کی پڑھو۔بڑا بے ایمان ہے وہ شخص جو قرآن کی طرف التفات نہ کرے اور دوسری کتابوں پر ہی دن رات جھکا رہے۔ہماری جماعت کو چاہیے کہ قرآن پاک کے شغل اور تدبر میں جان ودل سے مصروف ہو جائیں اور حدیثوں کے شغل کو ترک کریں۔بڑے تاسف کا مقام ہے کہ قرآن کریم کا وہ اعتناء اور تدارس نہیں کیا جاتا جو احادیث کا کیا جاتا ہے۔اس وقت قرآن کریم کا حربہ ہاتھ میں لو تو تمہاری فتح ہے۔اس نور کے آگے کوئی ظلمت ٹھہر نہ سکے گی۔‘‘؎۲
۱۴ــــ؍اکتوبر۱۹۰۰ء
خلق آدمؑ اور زحل کی تاثیرات صبح کی سیر کے وقت حضرت اقدس ؑ نے فرمایا: