اور ظاہر ہے کہ جتنا بعد نبوت سے ہو گا۔اتنی ہی غفلت اور کسل اور اعراض عن اللہ کا مرض شدید ہو گا۔بانیہمہ آخری زمانہ کا مصلح اور مامور ایسا شخص قرار دیا ہے،جو آتے ہی تلوار سے کام لے اور اتمام حجت کا ایک لفظ بھی منہ پر نہ لائے۔وہ مصلح ہی کیا ہوا ۔وہ خونریز مفسد ہوا۔ افسوس آتا ہے کہ اس قدر تنا قضات کا مجموعہ وہ حدیثیں ہیں کہ اس سے زیادہ ہفوات اور لغویات میں بھی تناقض نہیں ممکن،مگر ان لوگوں کی دانشیں ان کی بیہودگی کی تہ تک نہ جا سکیں۔ فرمایا: میں ان حدیثوں کو پڑھ کر کانپ اٹھا اور دل میں گزرا اور بڑے درد کے ساتھ گزرا کہ اگر اب خدا تعالیٰ خبر نہ لیتا اور یہ سلسلہ قائم نہ کرتا ۔جس نے اصل حقیقت سے خبر دینے کا ذمہ اٹھایا ہے۔تو یہ مجموعہ حدیثوں کا اور تھوڑے عرصہ کے بعد بے شمار مخلوق کو مرتد کر دیتا۔ان حدیثوں نے تو اسلام کی بیخکنی اور خطرناک ارتداد کی بنیاد رکھ دی ہوئی ہے۔جبکہ حدیثیں یونہی بے مراد رہتیں اور ان کی بے بنیاد پیش گوئیاں جو محض دروغ بے فروغ اور باطل افسانے ہیں اور کچھ مدت کے بعد آنے والی نسلوں کے سامنے اسی طرح نامراد پیش ہوتیں۔توصاف شک پڑ جاتا کہ اسلام بھی اور جھوٹے مہا بھارتی مذہبوں کی طرح نرا کتھوں پر مبنی اور بے سرو پا مذہب ہے۔ اورآئیندہ نسلیں سخت ہنسی اور استہزاء سے اس بات کے کہنے کا بڑی دلیری سے موقع پاتیں کہ دجال کو خدا بنانے والا! اور خدا کی صفات کاملہ مستجمہ سے پورا حصہ دینے والا مذہب بھی کبھی مذہب حق اور مذہب توحید کہلانے کا استحقاق رکھ سکتا ہے۔‘‘؎۱ اشاعت ہدایت کی تکمیل مسیح موعودؑ کے ذریعہ مقدر ہے میری سمجھ میںنہیں آتا کہ یہ کس قسم کی اصلاح ہے۔ حالت تو یہ ہے کہ بعد زمانہ ہی بجائے خود بہت کچھ قابل رحم حالت ہوتی ہے۔اور اس پر تو اس وقت ہزاروں اور فتنے اور آفتیں بھی ہوںگی پھر قتال سے کیا فائدہ؟ اخیر میں یہ بھی لکھ دیا ہے لا مھدی الا عیسیٰ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نجات قرآن ہی سے ہے۔جب ہم اس ترتیب کو دیکھتے ہیں کہ ایک طرف تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زندگی کے دو ہی مقصد بیان فرمائے ہیں۔یعنی تکمیل ہدایت اور تکمیل اشاعت ہدایت۔اول الذکر کی تکمیل چھٹے دن یعنی جمعہ کے دن ہوئی۔جبکہ آیت الیوم اکملت لکم(المائدۃ:۴)نازل ہوئی اور دوسری تکمیل کے لئے بالاتفاق مانا گیا ہے کہ وہ مسیح ابن مریم یعنی مسیح موعود کے زمانہ میں ہوگی۔سب مفسرین نے بالا اتفق لکھ دیا ہے کہ یہ آیت ھو الذی ارسل رسولہ