اس پر مولانا عبدالکریم صاحب نے عرض کیا کہ آپ وہ ہیں،جن کی نسبت خدا تعالیٰ کہہ چکا ہے انت المسیح الذی لا یضاع وقتہ۔میں امید کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کو آپ کے درجات کی ترقی بہت ہی منظور ہے کہ ایک طرف تو آپ کے سپرد اس کثرت سے کام کر دیئے ہیں کہ ان کے تصور سے قوی سے قوی زہرہ آدمی کی پیٹھ ٹوٹ جاتی ہے اور اُس پر اس قدر بیماریوں کا ہجوم۔مسکرا کر فرمایا:
’’ہاں یہ تو ہمیں یقین ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کے بہت سے مصالح ملحوظ ہیں‘‘۔
احمد بیگ کے متعلق پیشگو ئی احمد بیگ والی پیشگوئی پر اعتراض کے متعلق فرمایا:
’’ اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے خوف سے غور کرے کہ چار شخصوں
کی موت کی نسبت ہماری پیش گوئی تھی۔جن میں سے تین ہلاک ہو چکے ہیں اور ایک(داماد)باقی ہے،تو اس کی روح کانپ جائے گی کہ کس دلیری سے اور کیوں وہ اعتراض کر سکتا ہے۔اسے سمجھ لینا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کے مصالح اس میں ہیں۔خدا تعالیٰ کی عادت ہے کہ راسبازوں کے مخالفوں عمریں بھی ان کے کارخانے کی رونق کے لئے لمبی کر دیتا ہے۔خدا تعالیٰ قادر تھا کہ ابو جہل اور اس کے امثال پر مکہ معظمہ مین یک جا اور ناگہاں بجلی پڑ جاتی اور بہت بڑی ایذا پہنچانے سے قبل ان کا استیصال ہو جاتا ہے،مگر ان کا تاروپود درہم برہم نہ ہوا۔جب تک بدر کا یوم نہ آگیا۔اگر ایسی ایسی کاروایاں جلد جلد پوری ہو جائیں،تو نبی بہت جلد ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاوے اور وہ گرمی ہنگامہ کیونکر رنگ آرائے چہرہ ہستی ہو،جس کے قیام کے بغیر طرح طرح کے علوم اور حکمتیں بروئے کا ر نہیں آسکتیں۔خدا تعالیٰ صادق کو نہیں اٹھاتا،جب تک اس کا صادق ہونا آشکار نہ کر دے اور ان الزاموں سے اس کی تطہیر نہ کر دے،جو نا عاقبت اندیش اس پر لگاتے ہیں۔‘‘
بعد نماز عشاء فرمایا:
مہدی اور دجال کے متعلق احادیث میں آج کنزالعمال کو دیکھ رہا تھا۔مہدی اور دجال کی نسبت۸۵حدیثیں اس میں جمع کی گئی ہیں۔سب حدیثوں میں یہی ہے کہ وہ آتے ہی یوں خونریزی کرے گا اور یوں خلق خدا کے خون سے روئے زمین کو رنگین کرے گا۔خدا جانے ان لوگوں کو جو ان احادیث کے وضاع تھے۔سفاکی کی کس قدر پیاس اور خلق خدا کی جان لینے کی کتنی بھوک تھی اور اس وقت عقلیں کس قدر موٹی اور سطحی ہو گئیں تھیں۔یہ بات ان کی سمجھ میں نہ آئی کہ اصول تبلیغ اور ماموریت کے قطعاًخلاف ہے کہ کوئی مامور آتے ہی بلا اتمام حجت کے تیغ زنی شروع کر دیتے ہیں۔تعجب کی بات ہے کہ ایک طرف تو آخری زمانہ کو حضرت خیر الانام رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانہ سے اتنا دور قرار دیا ہے۔