’’اب ہماری باتیں ان لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتیں اور درحقیقت جب تک آسمان سے نور نازل ہو کر قلوب کو با فہم نہ بنائے۔کوئی نہ سمجھا سکتا ہے۔اور نہ ہی کوئی سمجھ سکتا ہے۔یہ ایام ابتلا ء کے ایام ہیں۔‘‘پھر فرمایا: ’’کیا یہی سچ ہے کہ خدا تعالیٰ کے اولیاء سے جنگ کرنے کے سبب سے نہ صرف ایمان ہی سلب ہو جاتا ہے بلکہ عقلیں بھی سلب ہو جاتی ہیں۔اس وقت جو بولتا ہے یہی بولتا ہے اور بیسوں خط اطراف سے اس مضمون کے آتے ہیں کہ مہر علی شاہ نے مرزا صاحب کی ساری شرطیں منظور کر لی ہیں۔پھر وہ مقابلہ کے لئے کیوں نہ آئے۔اللہ اللہ ایک طوفان بے تمیزی برپا ہے۔کوئی غور کرتا ہی نہیں کہ اصل بات کیا ہے۔‘‘؎۲ ۱۵ ؍ستمبر۱۹۰۰؁ء کلام الہی کی اقسام مطابق بستم جمادی الاولیٰ۱۳۱۸ھ بعد اداء نماز مغرب شرف دیدار مبارک حضرت اقدس ؑ حاصل گر دید۔فرمودند: ’’کلام الہی برسہ قسم است وحی،رویاء،کشف،وحی آنکہ بلا واسطہ شخصے بر قلب مطہرہ نبوی فرود آئد و آں کلام اجلیٰ دروشن مے باشند۔نظیرش بیان فرمودند کہ مثلاً حافظ صاحب نا بینا کہ پیش مانشستہ اند۔درسماع کلام ماہر گز۔ غلطی نمے خورندونمے دانند کہ آواز مسموع کلام غیرما باشد۔ اگرچہ از چشم ظاہر مارانمے بینند۔دیگر رویاء ومنام ست۔کہ آں کلام رنگین ولطیف وکنایہ داردوذوی الو جوہ است۔چون دیدن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوارین دردست مبارک خویش یا معائنہ فرمودن۔یکے زوجہ مطہرہ خودرا اطول یدین ودیدن بقرہ وغیرہ ایں چنیں کلام الٰہی تعبیر طلب است۔سوم کشف است وآں تمثل است خواہ بصورت جبرائیل باشدیا فرشتہ یا دیگر اشیاء۔پس آیت شریفہ خواندند ان یکلمہ اللہ ہ الا وحیاً او من ورای حجاب او یرسل رسولاً(الشوریٰ:۵۲) ارشاد شد کہ سوائے امور ثلاثہ مذکورہ کلام الٰہی را طریقے نیستؔ۔‘‘ ۱۳ ؍اکتوبر۱۹۰۰ء ؁ بیماری میں الٰہی مصالح عصر کے وقت فرمایا: ’’طبیعت بہت علیل ہے۔دُعا کرنی چاہیئے۔‘‘