۸؍ستمبر۱۹۰۰ء
ابتلاء موجب رحمت ہوتے ہیں شیخ رحمت اللہ صاحب کا خط دربارہ کسی ابتلاء کے حضرت اقدس کی خدمت میں پہنچا،جس پر حضور نے فرمایا:
’’ میں اس ابتلاء میں ان کے لئے بہت دعا کرتا ہوں۔اس سے مجھے بہت خوشی ہوئی ۔درحقیقت ابتلاء بڑی رحمت کا موجب ہوتے ہیں کہ ایک طرف عبودیت مضطر ہو کر اور چاروں طرف سے کٹ کر اسی اکیلے سبب ساز کی طرف متوجہ ہو جاتی ہے اور ادھر سے الوہیت اپنے فضلوں کے لشکر لے کر اس کی تسلی کے لئے قدم بڑھاتی ہے۔میں ہمیشہ یہ سنت انبیاء علیھم السلام اور سنت اللہ میں دیکھتا ہوں کہ جس قدرت اس گرامی جماعت کی رافت و رحمت ابتلا ء کے وقت اپنے خدام کی نسبت جوش مارتی ہے۔آرام و عافیت کے وقت وہ حالت نہیں ہوتی۔‘‘؎۱
۹؍ستمبر۱۹۰۰ء
صبر کی تلقین حضرت اقدس نے قبل از نماز ظہر بڑی لطیف تقریر فرمائی اور مولانا عبد الکریم صاحب سے مخاطب ہو کر فرمایا:کہ
’’جو کچھ ہو رہا ہے ۔ارادہ الہی کے موافق ہو رہا ہے۔ضروری تھا کہ یہ لوگ اپنے ہاتھوں سے ان آثار کی صداقت پر مہر لگا دیتے۔جن میں لکھا ہے کہ مہدی موعود کے وقت بڑا شور برپا ہو گا اور اس کو سلف وخلف کے عقئد کے خلاف باتیں بنانے والا کہہ کر کافر ٹھہرایا جائے گا۔اس وقت ہمارے احباب کو ایسا ہی صبر کرنا چاہیے۔جیسا کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے مکہ معظمہ میں کیا۔ کوئی حرکت ان سے ایسی سر زد نہ ہوئی جو انہیں حکام تک پہنچاتی۔اس وقت کسی پر بھروسہ نہ کریں۔کہ فلاں شخص ہماری مدد کرے گا ۔یاد رکھیں۔اس وقت خداوند جل وعلا کے سوا کوئی ولی ونصیر نہیں۔‘‘؎۲
اولیا ء اللہ سے جنگ کا نتیجہ ایک شخص کسی شیخ عبد الرحمن کشمیری بازار کا شائع ہوا لمبا چوڑا اشتہار لے کر حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوا ۔حضرت اقدس نے اس پر فرمایا: