’’انی مع الامراء اتیک بغتۃ‘‘
یعنی میں امیروں کے ساتھ تیری طرف اچانک آؤں گا
(اس الہام سے بشارت ملتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اب امیروں کو اس آسمانی سلسلہ کی طرف توجہ دلا نی چاہتا ہے)
۸؍ستمبر۱۹۰۰ء
کلام الہی کے تین طریقے رات مولانا نور الدین صاحب نے اس آیت کے معنی پوچھے۔وما کان لبشر ان یکلمہ اللہ الا وحیا او من ورآی حجاب
او یر سل رسولاً(الشوریٰ:۵۲)مولوی صاحب نے عرض کی کہ اس آیت سے بہت جھگڑا ہوا ہے۔حضرت اقدس نے فرمایا:
’’قبل اس کے کہ اس آیت کے حل کی طرف ہم متوجہ ہوں۔ہم عملاً دیکھتے ہیں کہ تین ہی طریقے ہیں خدا تعالیٰ کے کلام کرنے کے ۔چوتھا کوئی نہیں(۱)رویاء(۲)مکاشفہ(۳)وحی۔‘‘پھر نماز عشاء کا سلام پھیرنے کے بعد فرمایا:
’’مولوی صاحب! اس آیت کے معنی خوب کھل گئے ہیں۔من ورای حجاب سے مراد رویا کا ذریعہ ہے۔من ورای حجاب کے معنی یہ ہیں کہ اس پر استعارے غالب رہتے ہیں۔جو حجاب کا رنگ رکھتے ہیں۔اور یہی رویا ء کی ہیئت ہے۔
یرسل رسولا ً سے مراد مکاشفہ ہے۔رسول کا تمثیل بھی مکاشفہ میں ہی ہوتا ہے اور مکاشفہ کی حقیقت یہی ہے کہ وہ تمثیلات ہی کا سلسلہ ہوتا ہے۔‘‘
اس کے بعد بڑے جوش اور خوشی سے فرمایا:
’’قرآن کریم کیسے کیسے حقیقی اور عظیم علوم بیان فرماتا ہے۔اس آیت کے ہمرنگ انجیل وتورایت میں تو ڈھونڈ کر بتاؤ۔‘‘
مولوی صاحب نے پوچھا تھا۔اس تفسیر سے پہلے کہ من ورای حجاب سے یہ مطلب ہو کہ خدا تعالیٰ کا نظر آنا کوئی ضروری نہیں۔فرمایا:
’’یہ مطلب نہیں ۔یہ معنی ہی رویاء کے ہیں اور لفظمن ورای حجاب نے تو حقیقت رویا کے فلسفے کی بیان کی ہے۔‘‘؎۱