خوف و ہراس میں اوقات بسر کرے تا کہ ذل عبودیت کی حالت قائم رہے۔‘‘
فرمایا:’’ہیضہ خدا تعالیٰ کی تلوار ہے۔بہت بہت دعائیں مانگو کہ اللہ تعالیٰ اس سے گاؤں کو محفوظ رکھے۔اس لئے کہ مخالفوں کے نزدیک اور جگہوں کے لوگ تو شہید ہوتے ہیں۔مگر خدا نہ کرے جو یہاں تو پڑے تو یہ کہیں گے کہ ان پر غضب الہی پڑا۔‘‘ ؎۱
۳؍ستمبر۱۹۰۰ء
تحفہ گولڑیہ کے متعلق الہامی بشارت تحفہ گولڑیہ میں بڑے بڑے دقئق معارف بیان ہوئے ہیں۔حضرت اقدس نے فرمایا:
’’ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک الہام ہو ہے،جس کے یہ معنی ہیں کہ یہ رسالہ بڑا بابرکت ہو گا،اسے پورا کرو اور پھر الہام ہوا۔قل رب ذدنی علما۔
چونکہ مضامین کی آمد بہت ہے اور وہ چاہتی ہے کہ درمیانی سلسلہ ٹوٹنے نہ پائے،اس لئے کہ ٹوٹنے مے بسا اوقات پیش آمدہ مضمون فقت ہو جاتا ہے۔مناسب ہے کہ جمعرات تک پھر نمازیں ظہر اور عصر جمع کر کے پڑھی جائیں۔‘‘
چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی وہ پیش گوئی تجمع لہ الصلوۃ یوں ثابت اور پوری ہو گئی۔ ؎۲
۴؍ستمبر۱۹۰۰ء
بڑا ثواب حضرت اقدس نے ایک دن مولانا عبد الکریم صاحب کو مخاطب ہو کر فرمایا:کہ
’’اب تو آپ بھی ہمارے ساتھ گالیوں میں شامل ہو گئے۔بڑا ثواب ہے۔‘‘؎۳
۷؍ستمبر۱۹۰۰ء
ایک الہام حضرت کو کل درد سر کے وقت بار بار یہ الہام ہوا: