پیدا ہوتے ہیں۔یہ مقام تو ڈرنے کا تھا،مگر افسوس ان لوگوں نے اندھے اور بہرے ہو کر ان نشانات الیہہ کو (جو تضرع اور ابتہال پیدا کر سکتے تھے،ایمان میں ایک نئی زندگی بخش سکتے تھے)چھوڑ دیا اور صم بکم ہو کر گزر گئے۔ایسے لوگوں کے لئے ہم کیا کہہ سکتے ہیں۔ایسے لوگوں پر خدا تعالیٰ کا فتویٰ لگ چکا ہے۔صم بکم عمی لا یرجعون (البقرہ:۱۹)
ہماری جماعت کا فرج مگرہماری جماعت جس نے مجھے پہچانا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ان نشانات کو باسی نہ ہونے دیں۔اس سے قوت یقین پیدا ہوتی ہے۔
اس لئے ہماری جماعت کو چاہیے کہ وہ ان نشانات کو پوشیدہ نہ رکھے اور جس نے دیکھے ہیں وہ ان کو بتلا دے جوغائب ہیں،تا کہ برائیوں سے بچیں اور خدا پر تازہ ایمان پیدا کریں اور ان نشانات کو عمدہ براہین سے سجا سجا کر پیش کریں۔یاد رکھو! خدا کے دلائل اور براہین کو جو غور سے نہیں دیکھتے،وہ اندھے ہوتے ہیں اور حق کو دیکھ نہیں سکتے اور ان کے سننے کے کان نہیں ہوتے۔یہ لوھ چار پائے بلکہ ان سے بھہ بد تر ہیں اور خدا ان کی زندگی کا متکفل نہیں ہوتا۔خدا تعالیٰ مومن اور متقی کی زندگی کا ذمہ دار ہے۔ھو یتولی الصلحین(الاعراف:۱۹۷)اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی راہ سے دور اور چار پایوں کے مشابہ ہیں ان کی زندگی کا کفیل نہیں۔بھلا بتاو کہ کوئی آدمی ذبح ہوتے ہوئے بکروںکے سر پر بیٹھ کر روتا ہے؟پھر جو لوگ بکروں سے بھی گئے گزرے ہیں،ان کی زندگی کی کیا پرواہ ہو سکتی ہے؟
جانوروں کی زندگی دیکھ لو کہ محنتیں ان سے لی جاتی ہیں اور ان کو ذبح کیا جاتا ہے۔پس جو انسان خدا تعالیٰ سے قطع تعلق کرتا ہے ۔اس کی زندگی کی ضمانت نہیں رہتی؛چنانچہ فرمایا قل ما یعبئو ا بکم ربی لو لا دعا وکم( الفرقان:۷۸)یعنی اگر تم اللہ کو نہ پکارو،تو میرا رب تمہاری پرواہ ہی کیا رکھتا ہے۔
’’یاد رکھو جو دنیا کے لئے خدا کی عبادت کرتے ہیں یا اس سے تعلق نہیںرکھتے۔اللہ تعالیٰ ان کی کچھ بھی پرواہ نہیں رکھتا۔‘‘ ؎۱
یکم ؍ستمبر ۱۹۰۰ء
خدا کی صفت غناء کا تقاضا حضرت مسیح موعودؑ نے خدا کے غناء ذاتی پر بہت موثر اور ڈر دلانے والی تقریر فرمائی۔فرمایا:
’’اگر چہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے انہ اوی القریۃ۔مگر خداتعالیٰ کسی کا محکوم نہیں رہنا چاہتا۔اس کی صفت غناء ہر دم تقاضاکرتی ہے کہ انسان کبھی ایمن اور مطمئن ہو کر نہ بیٹھ رہے۔اس کا منشاء ہے کہ انسان