سے ہر وقت جاری ہے۔یہ بالکل ٹھیک بات ہے کہ اسلام کو دو قوتیں جنگ کی دی گئیں تھیں۔ ایک قوت وہ تھی جس کا استعمال صدر اول میں بطور مدافعت اور انتقام کے ہوا۔ یعنی مشرکین عرب نے جب ستایا اور تکلیفیں دیں، تو ایک ہزار نے ایک لاکھ کفار کا مقابلہ کر کے شجاعت کا جوہر دکھایا اور ہر امتحان میں اس پاک قوت و شوکت کاثبوت دیا۔وہ زمانہ گزر گیا اور رباط کے لفظ میں جو فلسفی ظاہری قوت جنگ اور فنون جنگ کی مخفی تھی وہ ظاہر ہو گئی۔
اس زمانہ میں جنگ باطنی کے نمونے دکھانے مطلوب ہیں
اب اس زمانہ میں جس میں ہم ہیں ظاہری جنگ کے مطلق ضرورت اور حاجت نہیں۔ بلکہ آخری دنوں میں جنگ باطنی کے نمونے دکھانے مطلوب تھے اور روحانی مقابلہ زیر نظر تھا۔کیونکہ اس وقت باطنی ارتداد اور الحاد کی اشاعت کے لئے بڑے بڑے سامان اور اسلحہ بنائے گئے ،اس لئے ان کا مقابلہ بھی اسی قسم کے اسلحے سے ضروری ہے۔ کیونکہ آجکل امن وامان کا زمانہ ہے اور ہم کو ہر طرح کی آسائش اور امن حاصل ہے ۔آزادی سے ہر آدمی اپنے مذہب کی اشاعت اور تبلیغ ا ور احکام کی بجا آوری کر سکتا ہے ۔ پھر اسلام جو امن کا سچاحامی ہے،بلکہ حقیقتاً امن اور سلم اور آشتی کا اشاعت کنندہ ہی اسلام ہے کیونکر اس زمانہ امن وآزادی میں اس پہلے نمونے کو دکھانا پسند کر سکتا تھا ؟پس آجکل وہی دوسرا نمونہ یعنی روحانی مجاہدہ مطلوب ہے ۔کیونکہ
کہ حلوا چو یکبار خوردند وبس
موجودہ زمانہ میں جہاد
ایک اور بات بھی ہے کہ اس پہلے نمونے کو دکھانے میںایک اور امر بھی ملحوظ تھا۔ یعنی اس وقت اظہار شجاعت بھی مقصود تھا۔
جو اس وقت کی دنیا میں سب سے زیادہ محمود اور محبوب وصف سمجھی جاتی تھی اور اس وقت توحرب ایک فن ہو گیا ہے کہ دور بیٹھے ہوئے بھی ایک آدمی توپ اور بندوق چلا سکتا ہے، مگر ان دونوں میں سچا بہادر وہ تھا جو تلواروں کے سامنے سینہ سپر ہوتا۔ مگر آجکل کا فن حرب تو بزدلوں کا پردہ پوش ہے ۔اب شجاعت کا کام نہیں، بلکہ جو شخص آلات حرب جدید اور نئی توپیںوغیرہ رکھتا ہے اور چلا سکتا ہے وہ کامیاب ہو سکتا ہے ۔اس حرب کا مدعا اور مقصد مومنوں کے مخفی مادہ شجاعت کا اظہار تھا اور خدا تعالیٰ نے جیسا چاہا، خوب طرح سے اسے دنیا میں ظاہر کیا۔ اب اس کی حاجت نہیں رہی ،اس لئے کہ ان جنگ نے فن اور مکیدت اور خدیعت کی صورت اختیار کر لی ہے اور نئے نئے آلات حرب اور پیچدار فنون نے اس قیمتی اور قابل فخر جوہر کو خاک میں ملا دیا ہے۔ ابتدائے اسلام میں دفا عی لڑائیوں اور جسمانی جنگوں کے لئے اس لئے بھی ضرورت پڑتی تھی کہ دعوت اسلام کرنے والے کا جواب ان دنوں دلائل وبراہین سے نہیں بلکہ تلوار سے دیا جاتا تھا ،اس لئے لاچار جواب الجواب میں تلوار سے کام لینا پڑا ،لیکن اب تلوار سے جواب نہیں دیا جاتا، بلکہ قلم اور دلائل سے اسلام پر نکتہ چینیاں کی جاتی ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے چاہا ہے کہ سیف(تلوار)کا کام قلم سے لیا جائے اور تحریر سے مقابلی کر کے مخالفوں کو پست کیا جائے، اس لئے اب کسی کو شایاں نہیں کہ قلم کا جواب تلوار سے دینے کی کوشش کرے
گر حفظ مراتب نکنی زندیقی