عوض میں اس کی نسبت مجھے یہ پیش گوئی عطا فرمائی۔پھر اس پیش گوئی میں اس کی موت،وقت ،صورت موت وغیرہ امور کو بخوبی بتلا دیا گیا تھا۔ہاتھ کا نشان بنایا جانا اور ’’بترس از تیغ بران محمدؐ‘‘کہنا یہ سب امور واضح طور پر موجود ہیں۔اب کوئی بتلائے کہ کیا اس وقت کہ جب کہ وہ ابھی چوبیس پچیس برس کا نوجوان تھا۔پانچ سال پیشتر اس وقت کی اطلاع دینا انسانی منصوبی کا دخل ہو سکتا ہے۔ہر گز نہیں۔یہ خدا تعالیٰ کا فعل ہے۔انسانی طاقت،انسانی فہم وفراست سے بالا تر اور بالاتر ہے۔ ۱ ؎ نشانات کی ضرورت اب بتلاو کہ کیا یہ نشانات اپنی صدقت اور ثبوت میں کسی اور خارجی دلیل کے محتاج ہیں۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ معجزات میں سے ایک  ہی کافی ہے؛چنانچہ جب ان سے معجزہ مانگا گیا،تو یہی کہتے رہے کہ یونس ؑ نبی کے نشان کے سوا اور کوئی نشان نہ دیا جاوے گا۔ میں نے پہلے بتلا دیا کہ جو لوگ اندرونی حالات سے واقف ہوتے ہیں۔ان کے لئے نشانات کی کچھ بھی بڑی ضرورت نہیں ہوتی۔اللہ تعالیٰ صرف رحم کر کے ان کے مزید اطمینان اور اپنی ہستی منوانے کے لئے نشانات ظاہر فرماتا ہے۔مجھ کو تعجب پر تعجب اور حیرت پر حیرت ہوتی ہے کہ لوگ اولیا ء اللہ کے معجزات کے قائل ہیں اور ایسے خوراق ان کے بیان کرتے ہیں۔جن کے لئے نہ کوئی دلیل ہے نہ عقلی یا نقلی ثبوت ہے اور وہ بطور کتھا اور کہانی کے ان کے زمانہ کے بہت عرصہ بعد لوگوں میں مشہور ہوئے ہیں۔ شیعہ ہی سے اگرحضرت علیؓ کے معجزات مانگو،تو وہ اس قدر بیان کریں گے کہ گنتے گنتے تھک جائیں،مگر ثبوت جب مانگیں تو کچھ بھی نہیں۔سید عبد القادر جیلانی ؒکے خوارق بکثرت بیان کیے جاتے ہیں،مگر ان کی کسی کتاب میں منقول نہیں ہیں۔اب لوگ خدا سے ڈریں اور سوچ کر جواب دیں کہ جو باتیں صد ہا سال کے بعد لکھی گئی ہیں،ان کی تو تصدیق کی جاتی ہے،لیکن جو آنکھوں سے دیکھے گئے ہیں،ان کی تکذیب کی جاتی ہے۔افسوس یہ لوگ تو اتنا بھی نہیں سوچتے کہ خبر معائنہ کے برابر نہیں ہوتی۔سنی ہوئی بات کسی واقعہ صحیحہ کی برابری نہیں کر سکتی۔اب میرے نشانات دیکھ کر جو ان نشانون کی تکذیب کی جاتی ہے۔یہ میری تکذیب نہیں یہ واقعات صحیحہ کی تکذیب ہے۔بلکہ اللہ تعالیٰ کی تکذیب ہے۔ یہ یاد رکھو کہ یہ مصیبت اس لئے آئی ہے کہ تقویٰ اور طہارت اٹھ گیا ہے اور قانون الہی یہی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کو خوف اور خشیت اٹھ جاتی ہے اور دلوں میں رقت اور روح میں گدازش نہیں رہتی۔اس وقت منذر نشان