ان کو بتلا دیا گیا تھا اور اشتہار چھاپ کر شائع کر دیا گیا تھا کہ ہمارا مضمون بالا رہا اور ٹھیک اسی الہام کے موافق یہ نشان ہزار ہا انسانوں کے رو برو پورا ہوا اور اردو انگریزی اخبارات نے متفق اللفظ ہو کر اقرار کیا کہ ہمرا مضمون سب سے بالا رہا ۔ بریت کا نشان پھر جو مقدمہ ہم پر اقدام قتل عمد کا قائم ہوا جس میں ڈاکٹر کلارک جیسے لوگ شامل تھے اور مولوی محمد حسین نے بھی جاکر گواہی دی اور رام بھجدت وکیل مشہور آریہ بھی پیروی کے لئے آیا۔کئی سو آدمی اس امر کے موجود ہیں کہ کس طرح پر قبل از وقت اس مقدمی کی ساری کیفیت اورصورت سے اطلاع دی گئی تھی اور آخر بریت کی بھی اطلاع دے دی جو اللہ تعالیٰ نے ابراء(بے قصور ٹھہرانا)کے الہام سے خبر دی تھی۔ یہ خدا کے غیب کی باتیں ہیں۔کیا انسانی طاقت میں ہے کہ اس طرح پر پیش گوئی کر کے اور ایسے وقت میں کہ مقدمے کا نام و نشان بھی نہیں۔اس کا سارا نقشہ کھینچ کر دکھلادیا جاوے۔ لیکھرام کا نشان پھر لیکھرام کا نشان ایک شمشیر برہنہ کی طرح تھا۔پانچ سال پیشتر بذریعہ اشتہارات فریقین کی طرف سے یہ پیش گوئی شائع کی گئی تھی اورخود لیکھرام  کہیں جاتا ۔اس پیش گوئی کو سناتا اس میں کوئی شرط نہ تھی اور وہ صاف تھی۔اگر وہ زندہ رہتا تو بے شک کوئی قیامت برپا ہو جاتی۔لیکن یہ تب ہوتا۔اگر خدا تعالیٰ کی باتیں نہ ہوتیں۔بے شک پھر انجام رسوئی کے ساتھ ہوتا۔کیا محمد حسین چپ رہتا؟اب بھی جب کہ یہ نشان پورا ہو گیا ہے اور لاکھوں انسانوں نے اس پیش گوئی کی صدقت کو تسلیم کر لیا۔وہ کہتا ہے کہ جماعت کے کسی آدمی نے قتل کر دیا ہو گا۔افسوس یہ لوگ اتنا نہیں سمجھتے کہ وہ مرید کیسا خاش اعتقاد ہو گا ،جو ایسے پیر پر بھی اعتقاد رکھ سکتا ہے جو اسے قتل کی ترغیب دے اور اپنی پیش گوئیوں کو اپنی سدقت کا معیار قائم کرے۔اور پھر ان کے پورا کرنے کے لئے مریدون کو ناجائز وسائل اختیار کرنے کی تعلیم دے؟شرم ہے ایسے خیالات پر۔ جو لوگ اس قسم کا خیال رکھتے ہیں وہ گویا ہماری نیک نہاد ،انساف پرور اور ہوشیار گورنمنٹ کو بھی بد نام کرنا چاہتے ہیں۔گورنمنٹ نے اپنی طرف سے کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیا،لیکھرام کے قتل کے متعلق اس نے پوری سر گرمی سے تحقیقات کی،لیکن ہمارا ور ہماری جماعت کا دامن اس خون سے بالکل صاف اور پاک ثابت ہوا۔ افسوس یہ لوگ اتنا نہیں سمجھتے کہ کیا لیکھرام نے میرے کسی باپ اور دادا کو قتل کر دیا تھا ؟اس نے میری ذات کو کسی قسم کی تکلیف اور ایذایں دی۔ہاں اس نئے پا ک رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پاک ذات پر وہ گستاخانہ حملے کیے اور وہ بے ادبیاں کیں کہ میرا دل کانپ اٹھا اور میرا جگر پارا پارا ہو گیا۔میں نے اس کی بے ادبیوں اور شوخیوں کو ٹکڑے ہوئے دل کے ساتھ خدا کے حضور پیش کیا۔اس نے ان شوخیوں اور گستاخیوں کے