ایسی بھی ہوتی ہیں جن میں بظاہر کوئی شرط نہیں ہوتی اور در حقیقت میں وہ مشروط ہوتی ہیں۔یونس نبی کا قصہ صاف موجود ہے۔تفسیروں میں دیکھ لو کیا لکھا ہوا ہے؟باوصیکہ ایک ایسی نظیر قرآن شریف اور کتب سابقہ میں موجود ہے۔لیکن ہمارے معاملہ میں اسی بد ظنی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے ایک مقررہ قانون کی بھی پرواہ نہیں کرتے؛حالانکہ اس میں صریح شرط موجود ہے۔اور اس کا زندہ رہنا اور بچ جانا اس امر کی دلیل ہے کہ اس نے اس شرط سے فائدہ اٹھایا مگر اس شرط سے فائدہ اٹھانے کے ہمارے پا اس سے بھی بڑھ کر دلائل ہیں جو ایک موٹی عقل کا ٓدمی بھی سمجھ سکتا ہے۔ہماری طرف سے متواتر اشتہار پر اشتہار جاری ہوئے۔اور اس کی دعوت کی گئی کہ تم اس کی قسم کھاو اور اگر جھوٹی قسم کی پاداش میں ایک سال کے اندر ہلاک نہ ہو جاوں،تو میں اپنے آپ کو جھوٹا قرار دوں گا۔اور اسی قسم کے لئے چار ہزار تک کو انعام بھی دینا چاہا اور یہ بھی ثابت کر کے دکھلایا کہ بائیبل سے ایسی قسم کا کھانا گناہ نہیں بلکہ انکار کرنا گناہ ہے۔اور یہ بھی کہا گیا کہ اگر ہم جھوٹے ہیں ،تو ہم پر نالش کرو۔پادریون نے بھی اس کو اکسایا اور ترغیب کی کہ تم اس کو نالش کرو،لیکن اس قدر کوششوں پر بھی وہ میدا ن میں نہ آیااور اپنی خاموشی اور اسلام پرنکتہ چینی اور اس کے خلاف تحریروں کی اشاعت سے رک کر اس نے بتلا دیا کہ حقیقت میں پیش گوئی کے موافق اس نے شرط سے فائدہ اٹھایا۔
پیش گوئی میں شرط کا ہونا خود ایک پیش گوئی ہے۔اگر اس نے شرط سے فائدہ نہیں اٹھانا تھا تو اس کو مشروط کرنے کے معنی کیا ہوئے۔
اب ایک متدین اور خدا ترس کو چاہیے کہ سوچے کہ آیا اتھم نے رجوع الی الحق کی شرط سے فائدہ اٹھایا ہے یا نہیں اور قسم کھانا خلاف شرع تھا تو کلارک اور پریم داس وغیرہ عیسائیوں نے قسم کھائی تھی یا نہیں۔علاوہ ازیں ہم نے توثابت کر کے دکھا دیا تھا کہ فیصلہ صحیحہ کے لئے قسم کھانا عیسائی پر واجب ہے۔
غرض یہ پیش گوئی مشروط تھی۔وہ سراسیمہ رہا۔شہر نہ شہر پھرتا رہا۔اگر اس کو خداوند مسیح پر پورا یقین اور بھروسہ ہوتا تو پھر اس قدر گھبراہٹ کے کیا معنی؟لیکن ساتھ ہی جب اس نے اخفائے حق کیا اور ایک دنیا کو گمراہ کرنا چاہا ،کیونکہ اخفائے حق بعض نا واقفوں کی راہ میں ٹھوکر کا پتھر ہو سکتا تھا،تو اللہ تعالیٰ نے اپنے صادق وعدہ کے مو افق ہمارے آخری اشتہار سے سات مہینے کے اندر اس کو اس دنیا سے اٹھا لیا اور جس موت سے وہ ڈرتا اوربھاگتا تھا اس نے اس کو آلیا۔
میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آتھم کے معاملہ میں لوگوں کو کیا مشکل پیش آسکتی تھی۔اس قدر قوی قرائن موجود ہیں۔اور پھر انکار!!! قرائن قویہ سے تو عدالتیں مجرموں کو پھانسی دے دیتی ہیں۔غرض یہ آتھم کا ایک بڑا نشان تھا۔اور براہین احمدیہ میں اس فتنہ کی طرف ساف صاف اور واضح لفظوں میں الہام د رج ہو چکا ہے۔
نشان مہو تسو پھر جلسہ مذہب کا نشان ایک بڑا نشان ہے۔خواجہ کمال الدین صاحب اور بہت سے دوست اس بات کے گوہ ہیں اور وہ قسم کھا کر بتلا سکتے ہیں کہ قبل از وقت