بھی حکم دیا ہے کہ وہ سوال نہ کرے۔وہ اپنی خلاف ورزیوں کی خود سزا پا لے گا۔لیکن تمہیں یہ مناسب نہیں کہ تم خدا تعالیٰ کے ایک واجب العزت حکم کی نا فرمانی کرو۔غرض اس کو کچھ دے دینا چاہیے۔اگر پاس کچھ ہو اگر پاس کچھ نہ ہو تو نرم الفاظ سے اس کو سمجھا دو۔‘‘ ؎۱
بد ظنی فساد اس سے شروع ہوتا ہے کہ انسان ظنون فاسدہ اور شکوک سے کام لینا شروع کرے۔اگر نیک ظن کرے تو پھر کچھ دینے کی بھی توفیق مل جاتی ہے ۔جب پہلی ہی
منزل پر خطا کی تو پھر منزل مقصود پر پہنچنا مشکل ہے۔بد ظنی بہت بری چیز ہے۔انسان کو بہت سی نیکیون سے محروم کر دیتی ہے اور پھر بڑھتے بڑھتے نوبت یہان تک پہنچ جاتی ہے کہ انسان خدا پر بد ظنی شروع کر دیتا ہے۔
اگر بد ظنی کا مرض بڑھ گیا ہوتا ،تو بتلاو ان مولویوں کو جنہوں نے میری تکفیر اور ایذا ہی میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔اور کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔کونسی وجوہ کفر کی اور میری تکذیب کی نظر آئی تھی ۔میں نے پکار پکار کر اور خدا کی قسمیں کھا کھا کر کہا کہ میں مسلمان ہوں۔قرآن کریم کو خاتم الکتاب اورر سول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو خاتم الا نبیاء مانتا ہوں۔اور اسلام کو ایک زندہ مذہب اور حقیقی نجات کا ذریعہ دیتا ہوں۔خدا تعالیٰ کی مقادیر اور قیامت کے دن پر ایمان لاتا ہوں۔اسی قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتا ہوں۔اتنی ہی نمازیں پڑھتا ہوں۔رمضان کے پورے روزے رکھتا ہوں۔پھر کونسی وہ نرالی بات تھی جو انہوں نے میرے کفر کے لئے ضروری سمجھی۔صریح ظلم ہے۔وہ اپنے گندے اعمال اور زندگی کو نہیں دیکھتے۔وہ زمین اور آسمان پر غور اور تدبر کر کے یہ نہیں سمجھ سکتے کہ ان مصنوعات کا خالق ہے۔لیکھرام کے نشان سے مولویوں نے کیا فائدہ اٹھایا؟
آتھم کا نشان پھر آتھم کی پیش گوئی سے کیا فائدہ حاصل کیا۔اللہ اللہ کیسی صاف نکلی بلکہ اس کو مشکوک کرنے کی سعی کی؛حالانکہ اگر اس میں کوئی لازم باقی تھا تو آتھم پر جس نے اپنی خاموشی اور ہمارے مطالبات کے جواب نہ دینے سے اس کی سچائی پر مہر کر دی۔جبکہ اس میں صریح شرط موجود تھی۔پھر ایک قانونی طبیعت کا آدمی بھی اس کے دو ہی معنی کرے گا۔ایک یہ کہ اگر شرط کی راعایت کرے تو بچ رہے۔ورنہ مر جائے۔
پھر بچ جانے کی صورت میں مومن کو چاہیے تھا کہ وہ اس مر کو تنقیح طلب قرار دیتا کہ آیا اس نے رعایت کی یا نہیں؟
یاد رکھو یہاں تو صریح اورصاف شرط موجود تھی کہ بشر طیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے،لیکن بعض اندازی پیش گوئیاں