مجاہدہ اور ریاضت
پس سمجھ لو اور خوب سمجھ لوکہ نرا علم وفن اور خشک تعلیم بھی کچھ کام نہیں دے سکتی۔ جب تک کہ عمل اور مجاہدہ اور ریاضت نہ ہو۔ دیکھو سرکار بھی فوجوں کو اسی خیال سے بے کار نہیں رہنے دیتی۔ عین امن وآرام کے دنوں میں بھی مصنوعی جنگ برپا کر کے فوجوں کو بے کار نہیں بیٹھنے دیتیں اور معمولی طور پر چاند ماری اور پریڈ وغیرہ تو ہر روز ہی ہوتی رہتی ہے۔
جیسا میں نے ابھی بیان کیا کہ میدان کا ر زار میں کامیاب ہونے کے لئے جہاں ایک طرف طریق استعمال اسلحہ وغیرہ کی تعلیم اور واقفیت کی ضرورت ہوتی ہے وہاں دوسری طرف ورزش اور محل استعمال کی بھی بڑی بھاری ضرورت ہوتی ہے اور نیزحرب ضرب کے لئے تعلیم یافتہ گھوڑے ہونے چاہییں۔یعنی ایسے گھوڑے جو بندوقوں اور توپوں کی آواز سے نہ ڈریں اور گرد وغبار سی پرا گندہ ہو کر پیچھے نہ ہٹیں، بلکہ آگے ہی بڑھیں ۔اسی طرح نفوس انسانی کامل ورزش ا ور پوری ریاضت اورحقیقی تعلیم کے بغیر اعداء اللہ کے مقابل میدان کار زار میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔
عربی زبان کی خوبی
لغت عربی بھی عجیب چیز ہے ۔رباط کا لفظ جو آیہ مزکورہ میں آیا ہے جہاں دنیاوی جنگ وجدل اور فنون جنگ کی فلاسفی پر مشتمل ہے۔ وہاں روحانی طور پر اندرونی جنگ اور مجاہدہ نفس کی حقیقت اور خوبی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ یہ ایک عجیب سلسلہ ہے ۔ اسی لئے عربی زبان ام السنہ ہے۔ اس سے وہ کام نکلتے ہیں، جو دوسری زبان سے ممکن نہیں اور انشاء اللہ یہ معارف نہایت وضاحت اور لطافت سے کتاب منن الرحمن کے ذریعہ سے ظاہر ہوں گے، جو میں نے آجکل عربی زبان کی فضیلت اور اس کو ام الاسنہ ثابت کرنے کے بارے میں شروع کی ہے ۔معلوم ہو جائے گا کہ یورپین لوگوں کی تحقیقاتیں بالکل نکمی اور ادھوری ہیں ۔ اور ان کو بھی پتہ لگ جائے گا ۔کہ زبانوں کی گمشدہ ماں بھی اس زمانہ ہی میں جہاں اور گمشدہ دینی صداقتیں مل گئی ہیں۔ مل گئی ہے اور وہ عربی ہی ہے۔ الغرض عربی زبان کی لغت جسمانی سلسلہ میں روحانی سلسلہ بھی دکھلائی جاتی ہے ۔اس لئے کہ جسمانی امور اور جسمانی باتیں خارجی طور پر ہمارے مشاہدے میں آتیںہیں اور ہم ان کی ماہیت نہایت سہولت اور آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔پس ان پر قیاس کر کے روحانی سلسلہ اور روحانی امور کی فلاسفی سمجھ میں آنی مشکل نہیں ہوتی اور یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل اور برکت ہے جو اس نے اس تاریکی اورضلالت کے زمانہ میں معرفت کا نور آسمان سے اتارا۔ تا کہ بھولے بھٹکوں کو راستہ دکھلائے اور ایسا طریق اور پیرا یہ ظاہر کرتا ہے جو اب تک راز کے طور پر تھا ۔وہ کیا؟یہی لغت عرب کی فلاسفی اور ماہیت سے استدلال۔ مبارک ہیں وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے فضل کی قدر کرتے اور اس کے لینے کو تیار ہو جاتے ہیں ۔
اسلام کو جنگ کی دو قوتیں دی گئی تھیں
اب دیکھو کہ یہی رباط کا لفظ جو ان گھوڑوں پر بولا جاتا ہے جو سرحد پر دشمنوں سے حفاظت کے لئے باندھے جاتے ہیں ۔ ایسا ہی یہ لفظ ان نفسوں پر بھی بولا جاتا ہے جو اس جنگ کی تیاری کے لئے تعلیم یافتہ ہوں ۔جو انسان کے اندر ہی شیطان