کرتا رہ جب تک کہ تجھے یقین کامل کا مرتبہ حاصل نہ ہواور تمام حجاب اور ظلماتی پردے دور ہو کر یہ سمجھ میں نہ آجاوے کہ اب میں وہ نہیں ہوں جو پہلے تھا،بلکہ اب تو نیا ملک،نئی زمین،نیا آسمان ہے اور میں بھی کوئی نئی مخلوق ہوں۔یہ حیات ثانی وہی ہے جس کو صوفی بقاء کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔جب انسان اس درجہ پر پہنچ جاتا ہے،تو اللہ تعالیٰ کی روح کا نفخ اس میں ہوتا ہے۔ملائکہ کا اس پر نزول ہوتا ہے۔یہی وہ راز ہے جس پر پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسبت فرمایا کہ اگر کوئی چاہے کہ مردہ اور میت کو زمین پر چلتا ہوا دیکھے تو وہ ابو بکرؓ کو دیکھے۔اور ابو بکرؓ کا درجہ اس کے ظاہری اعمال سے ہی نہیں بلکہ اس بات سے ہے جو اس کے دل میں ہے۔
ایمان ایک راز ہے مگر یاد رکھو۔ایمان ایک راز ہوتا ہے جو مومن اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہوتا ہے اور جس کو مخلوق میں سے اس مومن کے سوا دوسرا نہیں جان سکتا
انا عندظن عبدی بی کی حقیقت یہی ہے۔بعض اوقات وہ لوگ جو علوم حقہ اور معارف الٰہیہ سے بہرہ عر نہیں ہوتے۔کسی مومن کے ان تعلقات کے عدم علم کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کو ہوتے ہیں۔اس کی بعض حالتوں مثلاً معاملات رزق وماش پر حیرت اور تعجب ظاہرکرتے ہیں اور کبھی یہ تعجب ان کو بدظنی اور گمراہی تک لے جاتا ہے،اس لیے ان کی نظر اپنے ہی محدود اسباب پر ہوتی ہے۔اور وہ اس راز اور سر سے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ وہ رکھتا ہے۔ناواقف ہوتے ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ ہمارے دوست اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے اس راز کو ایسا بنائیں جو صحابہ کرامؓ کا تھا۔
اللہ تعالیٰ کی راہ میں زندگی وقف کریں غرض یہ ہے کہ انسان کو ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی زندگی کو وقف کرے۔ میں نے
بعض اخبارات میں پڑھا ہے کہ فلاں آریہ نے اپنی زندگی آریہ سماج کے لیے وقف کر دی اور فلاں پادری نے اپنی عمر مشن کو دے دی۔مجھے حیرت آتی ہے کہ کیوں مسلمان اسلاؔم کی خدمت کے لیے اور خدا کی راہ میں اپنی زندگی کو وقف نہیں کر دیتے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ پر نظر کر کے دیکھیں،تو ان کو معلوم ہو کہ کس طرح اسلام کی زندگی کے لیے اپنی زندگیاں وقف کی جاتی تھیں۔
یاد رکھو کہ یہ خسارہ کا سودا نہیں ہے،بلکہ بے قیاس نفع کا سودا ہے۔کاش مسلمانوں کو معلوم ہوتا اور اس تجارت کے مفاداور منافع پر ان کو اطلاع ملتی جو خدا کے لیے اس کے دین کی خاطر اپنی زندگی وقف کرتا ہے۔کیا وہ اپنی زندگی کھوتا ہے؟ہر گز نہیں۔فلہ اجرہ عندربہ ولا خوف علیہم ولا ہم یحزنون(البقرہ:۱۱۳)اس للہی وقف کا اجر ان کا رب دینے والا ہے۔یہ وقف ہر قسم کے ہموم وغموم سے نجات اور رہائی بخشنے والا ہے۔
مجھے تو تعجب ہوتا ہے کہ جبکہ ہر ایک انسان بالطبع راحت اور آسائش چاہتا ہے اور ہموم وغموم اور کرب وافکار