سے خواستگار نجات ہے۔پھرکیا وجہ ہے کہ جب اس کو ایک مجرب نسخہ اس مرض کا پیش کیا جاوے تو اس پر توجہ ہی نہ کرے۔کیا للہی وقف کا نسخہ۱۳۰۰ برس سے مجرب ثابت نہیں ہوا؟ کیا صحابہ کرامؓ اسی وقف کی وجہ سے حیات طیبہ کے وارث اور ابدی زندگی کے مستحق نہیں ٹھہرے؟پھر اب کونسی وجہ ہے کہ اس نسخہ کی تاثیر سے فائدہ اٹھانے میں دریغ کیا جا وے۔
بات یہی ہے کہ لوگ اس حقیقت سے ناآشنا اور اس لذت سے جو اس وقف کے بعد ملتی ہے۔نا واقف محض ہیں؛ورنہ اگر ایک شمہ بھی اس لذت اور سرور سے ان کو مل جاوے،تو بے انتہا تمنائوں کے ساتھ وہ اس میدان میں آئیں۔
اپنا ذاتی تجربہ اور وصیت میں خود جو اس راہ کا پورا تجربہ کار ہوں اور محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور فیض سے میں نے اس راحت اور لذت سے حظ اٹھایا ہے۔
یہی آرزو رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں زندگی وقف کرنے کے لیے اگر مر کے پھر زندہ ہوں اور پھر مروں اور زندہ ہوںتو ہر بار میرا شوق ایک لذت کے ساتھ بڑھتا ہی جاوے۔
پس میں چونکہ خود تجربہ کار ہوں اور تجربہ کر چکا ہوں اور اس وقف کے لیے اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ جوش عطا فرمایا ہے کہ اگر مجھے یہ بھی کہہ دیا جاوے کہ اس وقف میں کوئی ثواب اور فائدہ نہیں ہے،بلکہ تکلیف اور دکھ ہو گا ۔تب بھی میں اسلام کی خدمت سے رک نہیں سکتا ،اس لئے میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ اپنی جماعت کو نسیحت کروں اور یہ بات پہنچا دوں آئیندہ ہر ایک کا اختیار رہے کہ وہ اِسے سُنے یا نہ سُنے!اگر کوئی نجات چاہتا ہے اور حیات طیبہ یا ابدی زندگی کا طلب گار ہے،تو وہ اللہ کے لئے اپنی زندگی وقف کرے اور ہر ایک اس کوشش اور فکر میں لگ جاوے کہ وہ اس درجہ اور مرتبہ کو حاصل کرے کہ کہہ سکے کہ میری زندگی،میری موت،میری قربانیاں،میری نمازیں اللہ ہی کے لئے ہیں اور حضرت ابراہیم کی طرح اس کی روح بول اٹھ۔اسلمت لرب العالمین(بقرہ:۱۳۲)جب تک انسان خدا میں کھویا نہیں جاتا ،خدا میں ہو کر نہیں مرتا وہ نئی زندگی پا نہیں سکتا۔
پس تم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو،تم دیکھتے ہو کہ خدا کے لئے زندگی کا وقف میں اپنی زندگی کی اصل غرض سمجھتا ہوں۔پھر تم اپنے اندر دیکھو تم میں سے کتنے ہیں جو میرے اس فعل کو اپنے لئے پسند کرتے ہیں اور خدا کے لئے زندگی وقف رکھنے کو عزیز سمجھتے ہیں۔ ؎۱
انسان اگر اللہ تعالیٰ کے لئے زندگی وقف نہیں کرتا۔تو وہ یاد رکھے کہ ایسے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے جہنم