ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ کی زندگی میں للہی وقف کا معیار اورمحک وہ تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ضرورت بیان کی اور وہ کل اثاث البیت لے کر حاضر ہوگئے۔
انبیاء علیہم السلام کو ضرورتیں کیوں لاحق ہوتی ہیں مَیں یہاں ایک ضروری امر بیان کرنا چاہتا ہوں کہ انبیاء علیہم السلام
کو ضرورتیں کیوں لاحق ہوتی ہیں؟ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ اُن کو کوئی ضرورت پیش نہ آوے۔ مگر یہ ضرورتیں اس لیے لاحق ہوتی ہیں۔ تاکہ للہی وقف کے نمونے مثال کے طور پر قائم ہوں اور ابوبکرؓ کی زندگی کاوقف ثابت ہوا ور دنیا میں خدائے مقتدر کی ہستی پر ایمان پیدا ہواور ایسے للہی وقف کرنے والے دنیا کے لیے بطور آیت اللہ کے ٹھہریں اور اس مخفی لذت اور محبت پر دنیا کو اطلاع ملے،جس کے سامنے مال ودولت جیسی محبوب اور مرغوب شے بھی آسانی اور خوشی کے ساتھ قربان ہو سکتی ہے اور پھر مال ودولت کے خرچ کے بعد للہی وقف کو مکمل کرنے کے واسطے وہ قوت اور شجاعت ملے کہ انسان جان جیسی شے کو بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں دینے سے دریغ نہ کرے۔
غرض انبیاء علہیم السلام کی ضرورتوں کی اصل غرض دنیا کی جھوٹی محبتوں اور فانی چیزوں سے منہ موڑنے کی تعلیم دینے۔اللہ تعالیٰ کی ہستی پر لذیذ ایمان پیدا کرنے اور ابنائے جنس کی بہتری اور خیر خواہی کے لیے ایثار کی قوت پیدا کرنے کے واسطے ہوتی ہے؛ورنہ یہ پاک گروہ خزائن السموت والارض کے ما لک کی نظر میں چلتا ہے۔ان کو کسی چیز کی ضرورت ہو سکتی ہے؟وہ ضرورتیں تعلیم کو کامل کرنے اور انسان کے اخلاق اور ایمان کے رسوخ کے لیے پیش آتی ہیںؔ۔‘‘
یقین کا کامل مرتبہ مفسر کہتے ہیںکہ یقین سے مراد موت ہے،مگر موت روحانی مراد ہے اور یہ ظاہری بات ہے کہ اس کا مقصود بالذات کیا ہو۔جس کی تلاش کرنے کے
لیے یہاں ایماء اور اشارہ ہے۔
مگر میں کہتا ہوں کہ وہ روحانی موت ہو یا روحانی زندگی تمہاری زندگی خداہی کی راہ میں وقف ہو۔مومن کو لازم ہے کہ اس وقت تک عبادت سے نہ تھکے اور سُست نہ ہو۔جب تک یہ جھوٹی زندگی بھسم نہ ہو جاوے اور اس کی جگہ نئی زندگی جو ابدی اور راحت بخش زندگی ہے،اس کا سلسلہ شروع نہ ہو جاوے اور جب تک اس عارضی حیات دنیا کی سوزش اور جلن دور ہو کر ایمان میں ایک لذت اور روح میں ایک سکینت اور استراحت پیدا نہ ہو۔یقیناً سمجھو کہ جب تک انسان اس حالت تک نہ پہنچے۔ایمان کامل اور ٹھیک نہیں ہوتا۔اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا کہ تو عبادت