اور ایمان لانا اپنے ایمان کو مشروط بنانا ہے۔ یہ کمزور ہوتا ہے اور عموماً باردَر نہیں ہوتا۔ ہاں جب انسان حُسنِ ظن کے ساتھ ایمان لاتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ ایسے مومن کو وُہ نشان دکھاتا ہے جو اُس کے ازدیادِ ایمان کا موجب اور انشراح صدر کا باعثِ ہوتا ہے، خود اُن کو نشان اور آیت اللہ بنادیتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اقتراحی نشان کسی نبی نے نہیں دکھلائے۔ مومن صادق کو چاہیے کہ کبھی اپنے ایمان کونشان بینی پر مبنی نہ کرے۔
انفاق فی سبیل اللہ کی اہمیت مَیں پھر اصل بات کی طرف رجُوع کرکے کہتا ہوں کہ دولتمند اور متموّل لوگ دین کی خدمت اچھی طرح کر سکتے ہیں۔ اسی
لیے خداتعالیٰ نے ممارزقنھم ینفقون (البقرہ:۴) متقیوں کی صفت کا ایک جزو قراردیا ہے۔ یہاں مال کی کوئی خصوصیت نہیں ہے۔ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے کسی کو دیا ہے، وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرے۔ مقصود اس سے یہ ہے کہ انسان اپنے بنی نوع کا ہمدرد اور خادم ہے۔ اللہ تعالیٰ کی شریعت کا انحصار دو ہی باتوں پر ہے۔ تعظیم الامرا اللہ اور شفقت علیٰ خلق اللہ۔پس ممارزقنھم ینفقون میں شفقت علیٰ خلق اللہ کی تعلیم ہے۔
ایک دفعہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روپیہ کی ضرورت بتلائی ، تو حضرت ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہ گھر کا کل اثاث البیت لے کر حاضر ہوگئے۔ آپؐ نے پوچھا ابوبکر! گھر میں کیا چھوڑ آئے تو جواب میں کہا۔ اللہ اور رسول کا نام چھوڑ آیا ہوں۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ نصف لے آئے۔ آپؐ، صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ عمر! گھر میں کیا چھوڑ آئے۔ تو جواب دیا کہ نصف۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر و عمر کے فعلوں میں جو فرق ہے ، وہی اُن کی مراتب میں فرق ہے۔
دُنیا میں انسان مال سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے۔ اسی واسطے علمِ تعبیر الرویاء میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص دیکھے کہ اس نے جگر نکال کر کسی کو دیا ہے تو اس سے مُراد مال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حقیقی اتقاء اور ایما ن کے حصول کے لیے فرمایا: لن تنالو االبرحتی تنفقو ا مماتحبون (آل عمران: ۹۳) حقیقی نیکی کو ہرگز نہ پائو گے۔ جب تک تم عزیز ترین چیز نہ خرچ کروگے، کیونکہ مخلوقِ الہٰی کے ساتھ ہمدردی اور سلوک کا ایک بڑا حصہ مال کے خرچ کرنے کی ضرورت بتلاتا ہے اور ابنائے جنس اور مخلوقِ خدا کی ہمدردی ایک ایسی شے ہے جو ایمان کا دُوسرا جزو ہے جس کے بدُوں ایمان کاملِ اور راسخ نہیںہوتا۔ جب تک انسان ایثار نہ کرے۔ دُوسرے کو نفع کیونکر پہنچا سکتا ہے۔ دُوسرے کی نفع رسانی اور ہمدردی کے لئے ایثار ضروری شے ہے اور اس آیت میں لن تنالو االبرحتی تنفقو ا مماتحبون میں اسی ایثار کی تعلیم اور ہدایت فرمائی گئی ہے۔
پس مال کا اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا بھی انسان کی سعادت اور تقویٰ شعاری کا معیار اور محک ہے۔