جب مکے میں پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور آپ سے دریافت کیا کہ کیا آپ ؐنے واقعی پیغمبری کا دعویٰ کیا ہے؛ آپ ؐنے فرمایا۔ ہاں اور اُسی وقت مشرف باسلام ہوگئے۔‘‘ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو قبول اسلام کے لیے کسی اعجاز کی ضرور ت نہ پڑی۔ اعجاز بیسنی کے خواہشمند وہ لوگ ہوتے ہیں جن کو تعارفِ ذاتی نہیںہوتا۔ لیکن جس کو تعارفِ ذاتی ہوجاوے، اُسے اعجاز کی ضرورت اور خواہش ہوتی ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے معجزہ نہیں مانگا کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات سے واقف تھے اور خوب جانتے تھے کہ وہ راستباز اور امین ہے جھوٹا اور مفتری نہیں، جب کہ کسی انسان پر کبھی افترا نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ پر افترا کرنے کی کبھی جرأت نہیں کرسکتا۔ پس یہ بات یادرکھنی چاہیے کہ نشان صرف اس لیے مانگا جاتا ہے کہ اس بات کے امکان کا اندیشہ گزرتا ہوکہ شاید جھوٹ ہی بولا ہو، مگر جب یہ بات اچھی طرح معلوم ہو کہ مدعی صادق اور امین ہے۔ پھر نشان بینی کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ یہ بھی یادرہے کہ جو لوگ نشان دیکھنے کے خواہش مند ہوتے ہیں اور اصرار کرتے ہیں۔ ایسے لوگ راسخ الایمان نہیں ہوسکتے بلکہ ہر وقت خطرہ کے محل میں رہتے ہیں۔ ایمان بالغیب کے ثمرات اُن کو نہیں ملتے۔ کیونکہ ایمان بالغیب کے اندر ایک فعل نیکی کا حُسن ظن بھی ہے۔ جس سے وہ جلد باز بے نصیب رہ جاتا ہے۔ جو نشان دیکھنے کے لئے جلدی کرتا اور زور دیتا ہے۔ مسیح علیہ السلام کے حواریوں نے نزُول مائدہ کے لئے زور دیا تو خداتعالیٰ نے ان کو زجر بھی کیا ہے اور فرمایا ہے کہ ہم تو مائدہ نازل کریں گے، لیکن بعد نزُول مائدہ جو انکار کرے گا، اس پر سخت عذاب نازل ہوگا۔ قرآن شریف میں اس قصہ کے ذکر سے یہ فائدہ ہے کہ تابتلایا جاوے کہ بہترین ایمان کونسا ہے۔ اور اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نشانات یوں تو اجلی بدیہییات سے ہوتے ہیں، لیکن اُ کے ساتھ ایک طرف اتمام حجت منظور ہوتاہے اور دُوسری طرف ابتلائے اُمت۔ اس لیے بعض اُمور ا میں ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے ساتھ ایک ابتلا رکھتے ہیں اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ نشان مانگنے والے لوگ مستعجل اور حسن ظن سے حصہ نہ رکھنے والے ہوتے ہیں اور اُن کی طبیعت میں ایک احتمال اور شک پیدا کرنے کا مادہ ہوت اہے۔ تب ہی تو وہ نشان مانگتے ہیں۔ اس لیے جب نشان دیکھتے ہیں، تو پھر بیہودہ طور پر اس کی تاویلیں کرنی شروع کردیتے ہیں اور اس کو کبھی سحر کہتے ہیں، کبھی کچھ نام رکھتے ہیں۔ غرض وہ وہم پیدا کرنے والی طبیعت اُن کو امرِ حق سے دُور لے جاتی ہے۔اس لیے مَیں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم وُہ ایمان پیدا کرو جو ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہ اور صحابہ کا ایمان تھا۔ رضی اللہ عنہم۔کیونکہ اس میں حُسنِ ظن اور صبر ہے اور وہ بہت سے برکات اور ثمرات کا منتج ہے اور نشان دیکھ کر ماننا