کرے، مگر دین کا خادم سمجھ کر۔
اللہ تعالیٰ نے جو یہ دُعا تعلیم فرمائی ہے کہ ربنا اٰتنافی الدنیا حسنہ وفی الاخرۃ حسنہ (البقرہ: ۲۰۶)اس میں بھی دُنیا کو مقدم کیا ہے ، لیکن کس دُنیا کو؟ حسنۃ الدنیا کو جو آخرت میں حسنات کو موجب ہوجائے۔ اس دُعاکی تعلیم سے صاف سمجھ میں آجاتا ہے کہ مومن کو دُنیا کے حصول میں حسنات الآخرۃ کا خیال رکھنا چاہیے اور ساتھ ہی حسنۃ الدنیا کے لفظ میں ان تمام بہترین ذرائع حصول دنیا کا ذکر آگیا ہے جو ایک مومن مسلمان کو حصول دُنیا کے لئے اختیار کرنے چاہیں۔ دُنیا کو ہر ایسے طریق سے حاصل کرو۔ جس کے اختیار کرنے سے بھلائی اور خوبی ہی ہو۔ نہ وہ طریق جو کسی دوسرے بنی نوع انسان کی تکلیف رسائی کا موجب ہو۔ نہ ہم جنسوں میں کسی عاروشرم کاباعث ۔ ایسی دنیا بے شک حسنۃ لآخرۃ کا مُوجب ہوگی۔
سُست نہ بنو پس یادرکھو کہ جوشخص خدا کے لئے زندگی وقف کردیتا ہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ وُہ بے دست و پاہوجاتا ہے۔ نہیں ہرگز نہیں۔ بلکہ دین او رللہی وقف انسان کوہوشیار
اور چابکدست بنادیتا ہے۔ سُستی اور کسل اُس کے پاس نہیں آتا۔ حدیث میں عمار بن خزیمہ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے میرے باپ کو فرمایا کہ تجھے کس چیز نے اپنی زمین میں درخت لگانے سے منع کیا ہے تو میرے باپ نے جواب دیا کہ مَیں بڈھا ہوں۔ کل مرجائوں گا۔ پس اُس کو حضرت عمربں نے فرمایا کہ تجھ پر ضرور ہے کہ درخت لگائے۔ پھر میں نے حضرت عمرؓ کو دیکھا کہ خود میرے باپ کے ساتھ مل کر ہماری زمین میں درخت لگاتے تھے اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ عجز اور کسل سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ مَیں پھر کہتا ہوں کہ سُست نہ بنو۔ اللہ تعالیٰ حصولِ دنیا سے منع نہیں کرتا، بلکہ حسنۃ الدنیا کی دُعا تعلیم فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ انسان بے دست و پاہوکر بیٹھ رہے بلکہ اُس نے صرف فرمایا ہے لیس للانسان الا ماسعی (النجم:۴۰) اس لیے مومن کو چاہیے کہ وہ جدوجہد سے کام کرے، لیکن جس قدر مرتبہ مجھ سے ممکن ہے یہی کہوں گا کہ دنیا کو مقصود بالذات نہ بنالو۔ دین کو مقصود بالذات ٹھہرائو اوردُنیا اس کے لئے بطور خادم اور مرکب کے ہو۔ دولت مندوں سے بسااوقات ایسے کام ہوتے ہیں کہ غریبوں اور مُفلسوں کو وہ موقع نہیں ملتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں خلیفہ اول نے جو بڑے ملک التجار تھے مسلمان ہوکر لانظیر مدد کی اور آپ کو یہ مرتبہ ملا کہ صدیق کہلائے اور پہلے رفیق اور خلیفہ اول ہوئے۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ایمان لکھا ہے کہ جب آپ تجارت سے واپس آئے تھے اور ابھی مکہ میں نہ پہنچے تھے کہ راستہ میں ہی ایک شخص ملا۔
اس سے پوچھا کہ کوئی تازہ خبر سنائو۔ اس نے کہا کہ اور تو کوئی تازہ خبر نہیں۔ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ تمہارے دوست نے پیغمبری کا دعویٰ کیا ہے۔ ابوبکر ؓ نے وہی کھڑے ہوکر کہا کہ اگر اُس نے یہ دعویٰ کیا ہے تو سچا ہے؛ چنانچ