مبتلا ہوجائے کہ کوئی حظ اور فائدہ ذاتی اس سے اُٹھا نہ سکے۔ غرض اصل بات یہی ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم انسان کے شاملِ حال نہ ہو۔ انسان کسی سے کوئی فائدہ اُٹھا ہی نہیں سکتا۔ پھر جبکہ حقیقی نفع رساں اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے۔ پھر کس قدر بے حیائی ہے کہ انسان غیروں کے دروازے پر ناک رگڑتا پھرے۔ ایک خداترس مومن کی غیرت تقاضا نہیں کرتی کہ وُہ اپنے جیسے انسان کی ایسی خوشامد کرے جو اُس کا حق نہیں ہے۔ متقی کے لئے خود اللہ تعالیٰ ہر ایک قسم کی راہیں نکال دیتاہے۔ اُس کو ایسی جگہ سے رزق ملتا ہے کہ کسی دوسرے کو علم بھی نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ کود اس کا ولی اور مربی ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بدے جو دین کو دُنیا پر مقدم کرلیتے ہیں۔ اُن کے ساتھ وہ رأفت اور محبت کرتا ہے؛ چنانچہ خود فرماتا ہے۔واللہ رئُ وف بالعباد۔(البقرہ:۲۰۸) خداتعالیٰ کے بندے کون ہیں؟ یہ وُہی لوگ ہیں جو اپنی زندگی کو جو اللہ تعالیٰ نے اُن کو دی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی کی راہ میںوقف کردیتے ہیں اوراپنی جان کو خداکی راہ میں قربان کرنا، اپنے مال کو اُس کی راہ میں صرف کرنا اُس کا فضل اور اپنی سعادت سمجھتے ہیں، مگر جو لوگ دُنیا کی املاک وجائداد کو اپنا مقصود بالذات بنالیتے ہیں، وہ ایک خوابیدہ نظر سے دین کو دیکھتے ہیں، مگر حقیقی مومن اور صادق مُسلمان کا یہ کام نہیں ہے۔ سچا اسلام یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی ساری طاقتوں اور قوتوں کو مادام الحیات وقف کردے، تاکہ وہ حیاتِ طیبہ کا وارث ہو؛ چنانچہ خود اللہ تعالیٰ اس للہی وقف کی طرف ایماء کرکے فرماتا ہے۔ من اسلم وجھہ للہ وھومحسن فلہ اجرہ عندربہ ولا خوف علیھم ولا ھم یحزنون (البقرہ:۱۱۳) اس جگہ اسلم وجھہ للہ کے معنی یہی ہیں کہ ایک نیستی اور تذلل کا لباس پہن کر آستانۂ الوہیت پر گرے اور اپنی جان ، مال ، آبروغرض جو کچھ اس کے پاس ہے۔ خدا ہی کے لیے وقف کرے اور دُنیا اور اُس کی ساری چیزیں دین کی خادم بنادے۔ حُصولِ دُنیا میں مقصود بالذات دین ہو کوئی یہ نہ سمجھ لیوے کہ انسان دُنیا سے کچھ غرض اور واسطہ ہی نہ رکھے۔ میرا یہ مطلب نہیں ہے اور نہ اللہ تعالیٰ دُنیا کے حصول سے منع کرتا ہے، بلکہ اسلام نے رہبانیت کو منع فرمایا ہے۔ یہ بزدلوں کا کام ہے۔ مومن کے تعلقات دُنیا کے ساتھ جس قدر وسیع ہوں وُہ اس کے مراتب عالیہ کا موجب ہوتے ہیں، کیونکہ اُس کا نصب العین دین ہوتاہے اور دُنیا، اُس کا مال وجاہ دین کا خدام ہوتا ہے۔ پس اصل بات یہ ہے کہ دُنیا مقصود بالذات نہ ہو۔ بلکہ حصولِ دُنیا میں اصل غرض دین ہو اور ایسے طور پر دُنیا کو حاصل کیاجاوے کہ وہ دین کی خادم ہو۔ جیسے انسان کسی جگہ سے دُوسری جگہ جانے کے واسطے سفر کے لئے سواری اور زادِ راہ کو ساتھ لیتا ہے تو اس کی اصل غرض منزلِ مقصود پر پہنچنا ہوتا ہے نہ خود سواری اور راستہ کی ضروریات۔ اس طرح پر انسان دُنیا کو حاصل