دوجہاں کے سردارؐ کو مکہ سے نکالا گیا تھا اور کفارِ قریش نے چند روز کے لئے چراغاں کرکے جھوٹی خوشی منائی تھی۔آج حق کو جھوٹا کہا جارہا ہے اور راستی پائوں تلے کچلی جارہی ہے اور بہت سے شقی چاروں طرف سے اُٹھتے ہیں۔ آج وُہ الہام پورا ہوا ، جو کچھ مدت ہوئی شائع کیا تھا۔
’’وُہ بیت الصدق کو بیت التزویر بناناچاہتے ہیں۔‘‘
رات حضرت مرسل اللہ علیہ وسلم اس امر پر دیر تک گفتگو فرماتے رہے ۔ فرمایا:
’’ان شوروں سے ہم پر کیا رُعب پڑ سکتا ہے۔ ہمیں تو یہ سارے شور ایک تمہید معلوم ہوتے ہیں۔ خداتعالیٰ کی اُس نصرت کی آمد کے لئے جو دیر سے معرضِ التوا میں ہے۔ عادت اللہ یُوں ہی ہے کہ جب تکذیب شدت سے ہوتی ہے ، تو غیرتِ الہٰی اسی قدر نُصرت کے لئے جوش مارتی ہے۔ آتھم کے شور پر جو ہماری تکذیب اور اہانت ہوئی۔ خداتعالیٰ کی غیرت نے بہت جلد لیکھرام کا نشان ظاہر کیا۔ اسی طرح ہم قویٰ اُمید رکھتے ہیں کہ یہ شورِ تکذیب پیش خیمہ ہے کِسی زبردست نشان کا۔ ممکن ہے کہ کوئی بدقسمت اس شور کے رُعب میں آکر کٹ جائے۔ اُس کا علاج ہم کیا کرسکتے ہیں۔ اس لیے کہ سنت اللہ یہی ہے۔‘‘
اگست ؍ ۱۹۰۰ء
حقیقی نفع رساں اللہ تعالیٰ کی ہی ذات ہے دُنیا میں لوگ حکام یا دُوسرے لوگوں سے کسی قسم کا کوئی نفع اُٹھانے کی ایک خیالی اُمید پر
اُن کو خوش کرنے کے واسطے کس کس قسم کی خوشامد کرتے ہیں۔یہانتک کہ ادنیٰ ادنیٰ درجہ کے اردلیوں اور خدمت گاروں تک کو خوش کرنا پڑتا ہے؛ حالانکہ اگر وُہ حاکمِ راضی اور خوش بھی ہوجاوے، تو اس سے صرف چند روز تک یا کسی موقعِ مخصوص پر نفع پہنچنے کی اُمید ہوسکتی ہے۔ اس خیالی اُمید پر انسان اُس کے خدمتگاروں کی ایسی خوشامدیں کرتا ہے کہ مَیں تو ایسی خوشامدوں کے قصور سے بھی کانپ اُٹھتا ہوں اور میرا دل ایک رنج سے بھر جاتا ہے کہ نادان انسان اپنے جیسے انسان کی ایک وہمی اور خیالی اُمید پر اس قدر خوشامدکرتا ہے۔ مگر اُس مُعطیِ حقیقی کی جس نے بُدوں کِسی معاوضہ کے اور التجا کے اس پر بے انتہا فضل کیے ہیں۔ ذرا بھی پروا نہیں کرتا؛ حالانکہ اگر وہ انسان اُس کو نفع پہنچانا بھی چاہیے تو کیا؟ مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ کوئی نفع خداتعالیٰ کے بدُوں پہنچ ہی نہیں سکتا۔ ممکن ہے کہ اس سے پیشتر کہ وہ نفع اُٹھائے، نفع پہنچانے والا یا کود یہ اس دنیا سے اُٹھ جائے یا کِسی ایسی خطرناک مرض میں