ہمارا تو مذہب یہ ہے کہ علومِ طبعی جس قدر ترقی کریں گے اور عملی رنگ اختیار کریں گے۔ قرآن کریم کی عظمت دُنیا میں قائم ہوگی۔ ۱۷؍اگست ۱۹۰۰؁ء مولانا عبدالکریم ؓ کا خطبہ اور حضرت اقدسؑ کی تعریف مولاناعبدالکریم ؓ صاحب نے جو خطبہ۱۷؍اگست۱۹۰۰؁ء کو پڑھا۔ حضرت اقدس ؑ نے اُس کی تعریف فرمائی۔ مولانا نے دوبارہ اس خُطبہ کو اپنے قلم سے لکھا ہے اور کہا کہ کاش مجھے معلوم ہوتا کہ میری یہ دل کی باتیں قبول کا شرف پائیں گی۔ کل صُبح کی اذان سے قبل مَیں کیا دیکھتا ہوں کہ میرے داہنے کان کے ساتھ بہت سے ٹیلیفون لگے ہیں۔ اور مختلف شہروں سے مختلف دوستوں کی طرف سے آوازیں آرہی ہیں کہ ’’جو کچھ آپ ہمارے مسیح موعود ؑ کی نسبت کہتے ہیں۔ ہم اُس کو خوب سمجھتے ہیں۔‘‘ مجھے خیال پڑتا ہے کہ کسی نے یہ بھی کہا ہے کہ ’’ہم اس کا اعتراف کرتے ہیں۔‘‘ تحدیث بالنعمت کے طور پر مَیں یہ بھی لکھنا ضروری سمجھتا ہوں کہ بعد نماز جمعہ حضرت اقدس ؑ سے کچھ عرض کرنے کے لئے اندر گیا۔ بعد اِدھر اُدھر کے ذکر کے مَیں نے خُطبہ کی نسبت حضور ؑ سے پوچھا ۔ فرمایا:۔ ’’یہ بالکل میر امذہب ہے جو آپ نے بیان کیا۔‘‘ اور فرمایا ’’یہ خداتعالیٰ کا فضل ہے کہ آپ معارفِ الہٰیہ کے بیان میں بلندچٹان پر قائم ہوگئے۔‘‘ ۲۵۔۲۶؍اگست ۱۹۰۰؁ء  کی درمیانی شب کسی زبردست نشان کا پیش خیمہ جُمعہ کے دن لاہور اسٹیشن پر سب مختلف المشارب لوگ جو ہمارے بغض میں ایک گھاٹ پانی پینے لگ گئے ہیں۔  یُوں جمع ہوگئے اور پیر صاحب گولڑوی کو سوار کراکر شہر کے اندر سے اس طرح تبرا کرتے گزرے جیسے روافض سینہ پیٹتے اور قدوسیوں کو کوستے جاتے ہیں۔ بطلان نے اسی طرح رونق پیداکرلی جیسے اُس دن جب کہ