کر بند کرلیا گیا تھا۔
اب ولایت یورپ اور امریکہ سے ہرروز ہزاروں لاکھوں بوتلوں میں لم یتسنہ کھانے پکے پکائے چلے آتی ہیں۔ لم یتسنہ کا اثرتو ہندوں کے جوگ پر پڑتا ہے اور آج کل کی علمی بلند پروازیوں کی حقیقت کھولتا ہے کہ قرآن کریم میں پہلے سے درج ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ جیسے ہوا کے ایک خاص اثر سے کھانا مر جاتا ہے۔ اسی طرح انسان پر بھی اس کا اثر ہوتاہے اب اگر خاص ترکیب سے کھانے کو اس ہوا کے اثر سے محفوظ رکھ کر زندہ رکھا جاتا ہے، تو اس میں تعجب کی کونسی بات ہے۔
ممکن ہے کہ آئندہ کسی زمانہ میں درحقیقت بھی کُھل جائے کہ انسان پر کھانے کی طرح عمل ہوسکتا ہے۔ یہ علُوم ہیں۔ اُن کے ماننے سے کوئی حَرج لازم نہیں آتا۔
آج کل کی تحقیقات اور علمی تجربوں نے ایسے موزے بنالیے ہیں کہ انسان اُن کو پہن کر دریا پر چل سکتا ہے اور ایسے کوٹ ایجاد ہوگئے ہیں کہ آگ یا بندوق کی گولی اُن پر اپنا اثر نہیں کرسکتی۔ اسی طرح سے لم یتسنہ کی حقیقت جو قرآن کریم کے اندر مرکوز ہے، علمی طور پر بھی ثابت ہوجاوے ، تو کیا تعجب ہے؟ ہو ا کااثر کھانے کو تباہ کرتاہے اور انسان کے لئے بھی ہو اکا بڑ اتعلق ہے۔ ہوا کے دو حصے ہیں ایک قسم کی ہوا اندر جا تی ہے، تو اندر تازگی پیداہوتی ہے ۔ دُوسری دم کے ساتھ باہر آتی ہے جو جلی ہوئی متعفن ہوا ہوتی ہے۔ غرض اگر لم یتسنہ والی بات نکل آوے۔ تو ہمارا تو کچھ بھی حرج نہیں۔ بلکہ جس قدر علوم طبعی پھیلتے جاتے ہیں اور پھیلیں گے اسی قدر قرآن کریم کی عظمت اور خوبی ظاہر ہوگی۔
ہم تو آئے دن دیکھتے ہیں کہ ولایت کے پکے ہوئے شوربے اور گوشت ہندوستان میں آتے ہیں اور بگڑتے نہیں۔ ولائتی ادویات ہزاروں میل سے آتی ہیں اور مہینوں برسوں پڑی رہتی ہیں ، خراب نہیں ہوتی ہیں۔ مجھے ایک شخص نے بتلایا کہ اگر انڈے کو سرسوں کے تیل میں رکھ کر چھوڑیں، تو نہیں بگڑتا۔
اس طرح پر ممکن ہے کہ انسان کے شباب اور طاقتوں پر بھی اثر پڑے بعض مسلمانوں نے بھی دم سدھنے کی کوشش کی ہے ۔ خود میرے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ مَیں دن میں دوبار سانس لیتا ہوں۔ یہ عملی شہادت ہے کہ ہوا کو سڑنے میں دخل ہے اس قسم کی ہوا سے جب بچایا جاوے تو انسان کی عمر بڑھ جاوے ، تو حرج کیا ہے اور عمر کابڑھنا مان لیں تو کیا حرج ہے۔
قاعدہ کی بات ہے کہ جس قدر حکمتیں ایجاد ہوتی ہیں یا تو طبعی طور پر خدا نے قاعدہ رکھا ہوا ہے یا عناصر کے نظام میں بات رکھی ہوتی ہے۔ کوئی محقق دیکھ کر بات نکال لیتاہے۔ ہم کو اس پر کوئی بحث نہیں ہے۔