صوم کے لئے تو عربی بھی پوچھتے تھے ،ہر آیت میںحق طاہر ہوتا ہے۔
قصوں میں یہ بات ضرور نہیں۔مثلاً اب یہ ضرور نہیں کہ حضرت ابراہیم کے مخالف بت پرستوں کا حلیہ بھی بتلا دیا جائے۔اس قسم کے خیالات سوء ادبی پر مبنی ہوتے ہیں۔غرض یاد رکھو کہ قصص قرآنی میں بیہود چھیڑ چھاڑ درست نہیں ہے۔انسان پابند ہدایت نہیں ہو سکتا،جب تک کہ تصریح نہ ہو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے ہدایتوں کو آسان کر دیا۔اسی طرز پر اللہ تعالیٰ نے یہ صراحت کی ہے کہ مردے واپس نہیں آتے۔
ہمارے مخالفوں میں اگر دیانت اور خدا ترسی ہو تو عزیر کا قصہ بیان کرتے ہوئے ضرور ہے کہ وہ ان آیات کو بھی ساتھ رکھیں جس میں لکھا ہے کہ مردے واپس نہیں آتے۔پھر ہم بطریق تنزل ایک اور جواب دیتے ہیں۔
اس بات کو ہم نے بیان کردیا ہے او رپھر کہتے ہیں کہ قصوں کے لے اجمالی ایمان کافی ہے۔ ہدایات میں چونکہ عملی رنگ لانا ضروری ہوت اہے۔ اس لیے اُس کا سمجھنا ضروری ہے۔ ماسوا اس کے یہ جولکھا ہے کہ سو برس تک مُردہ رہے اَمَات کے معنے انام بھی آئے ہیں اور قوتِ نامیہ اور حسیہ کے زوال پر بھی موت کا لفظ قرآن کریم میں بولا گیا ہے۔ بہر حال ہم سونے کے معنے بھی اصحابِ کہف کے قصہ کی طرح کرسکتے ہیں۔ اصحابِ کہف اور عزیز کے قصہ میںفرق اتنا ہے کہ اصحابِ کہف کے قصہ میں ایک کتا ہے ار یہاں گدھا ہے اور نفس کتے اور گدھے دونوں سے مشابہت رکھتاہے۔ خدا نے یہودیوں کو گدھا بنایا ہے اور کتے کو بلعم کے قصہ میں بیان فرمایا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ نفس پیچھا نہیں چھوڑتا ۔ جو بیہوش ہوتاہے اُس کے ساتھ کتا ہوگا یا گدھا۔
غرض دوسرے طریق پر جس کا ہم نے ذکر کیا ہے امات کے معنی انام کرتے ہیں اور ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں کہ سو برس چھوڑ کر کوئی دولاکھ برس تک سویا رہے، ہماری بحث یہ ہے کہ روح ملک الموت لے جاوے پھر واپس دُنیا میں نہیں آتی۔ سونے میں بھی قبضِ رُوح تو ہوتا ہے، مگر اس کو ملک الموت نہیں لے جاتا۔
اور عرصہ دراز تک سوئے رہنا ایک ایساامر ہے کہ اس پر کسی قسم کا اعتراض نہیں ہوسکتا۔ ہندوئوں کی کتابوں میں دَم سادھنے (حبسِ دم کرنے) کی ترکیبیں لکھی ہوئی ہیں اور جو گ ابھیاس کی منزلوں میں دَم سادھنا بھی ہے۔ ابھی تھوڑا عرصہ گذرا ہے کہ اخبارات میں لکھا تھا کہ ریل کی سڑک تیار ہوتی تھی کہ ایک سادھو کی کٹیا نکلی ایسی ہی اخبارات میں ایک لڑکے کی بیس سال تک سوئے رہنے کی خبر گشت کررہی تھی۔ غرض یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ ایک آدمی سو سال تک سویا رہے۔
لم یتسنہ کی حقیقت پھر یہ لفظ لم یتسنہ قابلِ غور ہے اور موجودہ زمانہ کے تجربہ پر لحاظ کرنے کے بعد لم یتسنہ کی حقیقت سمجھ لینا کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔ایک ثقہ آدمی لکھتا ہے کہ مَیں نے گوشت کھایا ہے جو میری پیدائش سے ۳۰ برس پہلے کا پکاہو اتھا۔ ہوا نکال