کر خاتمہ اس طرح پر ہوتا ہے کہ فرشتہ ملک الموت آکر قبض روح کر لیتا ہے اور پھر اور واقعات پیش آتے ہیں۔منکر نکیر کرتے ہیں۔اعمال آتے ہیں پھر کھڑکی نکالی جاتی ہے ۔پھر قرآن کریم کہتا ہے کہ موتی قیامت ہی کو اٹھیں گے۔یبعث اللہ الموتیٰ معالم میں لکھا ہے کہ رجوع موتی نہیں ہوتا۔ ایک اہم نکتہ قرآن کریم کے دو حصے ہیں کوئی بات قصہ کے رنگ میں ہوتی ہے۔اور برؤعض احکام ہدایت کے رنگ میں ہوتے ہیں۔ بہ حیثیت جو ہدایت پیش کرتا ہے اس کا منشا ء ہے کہ مان لو جیسے ان تصو موا خیر لکم(البقرہ:۱۸۵)اب سوم شتر مرغ کی بیٹ کو کہتے ہیں،مگر اس کا یہ مطلب نہیں۔احکام میں صفائی ہوتی ہے جبکہ اس ہدایت کے سلسلے میں یہ فرمایا کہ ملک الموت ہوتا ہے اور پھر رفع ہوتا ہے اور حدیث میں اس کی تائید آئی ہے۔ایک جگہ فرمایا:فیمسک التی قضی علیھا الموت(الزمر:۴۳)یعنی جس نفس پر موت کو حکم دے دیتا ہے۔اس کو واپس نہیں آنے دیتا۔دیکھو یہ خدا کا کلام ہے۔قصہ کے رنگ میں نہیں ہے بلکہ ہدایت کے رنگ میں ہے۔ جو لوگ قصص اور ہدایت میں تمیز نہیں کرتے ،ان کو بڑی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور قرآن کریم میں اختلاف ثابت کرنے کے موجب ہوتے ہیں اور گویا اپنی عملی صورت میں قرآن کریم کو ہاتھ سے دے بیٹھتے ہیں۔کیونکہ قرآن شریف کی نسبت تو خدا تعالیٰ کا ارشاد ہے۔لو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیراً(النساء:۸۳)اور عدم اختلاف اس کے منجانب اللہ ہونے کی دلیل ٹھہرائی گئی ہے،لیکن یہ نہ عاقبت اندیش قصص اور ہدایات میں تمیز نہ کرنے کی وجہ سے اختلاف پیدا کر کے اس کو من عند غیر اللہ ٹھہراتے ہیں۔افسوس ان کی دانش پر!!! ان لوگوںسے پوچھنا چاہیے کہ مقدم ہدایات ہیں یا قصص؟اور اگر ا دونوں میں تناقض پیدا ہو تو مقدم کس کو رکھو گے؟اللہ تعالیٰ بار بار فرماتا ہے کہ جو مر جاتے ہیں وہ واپس نہیں آتے اور ترمذی میں حدیث موجود ہے کہ ایک صحابی شہید ہوئے ۔انہوں نے عرض کی کہ یا الہی! مجھے دنیا میں پھر بھیجو،تو خدا تعالیٰ نے جواب یہی دیا۔قد سبق القول منی(الحدیث)حرم علی قریۃ اھلکنا ھا انہم لا یرجعون(الانبیاء:۹۶) اب قرآن کریم موجود ہے۔اس کی شرح حدیث شریف میں صاف الفاظ میں موجود ہے۔اس کے مقابلہ میں ایک خیالی اور فرضی کہانی کی کیا حیثیت ہو سکتی ہے؟ ہم پوچھتے ہیں کہ اس کے بعد کیا چاہتے ہو۔ہم قرآن اور حدیث پیش کرتے ہیں۔پھر عقل سلیم اور تجربہ بھی اس کا شاہد ہے۔ہماری طرف سے خود ساختہ بات ہوتی تو تم قصہ پیش کر دیتے،مگر یہاں تو ہدایت اور اس کی تائید میں حدیث پیش کی جاتی ہے۔اس کے بعد اور کیا چاہیے۔فماذا بعد الحق الا الضلال(یونس:۳۳) قصوں کے حقائق خدا تعالیٰ کو بتانے ضروری نہیں،ان پر ایمان لاو اور ان کی تفاسیر حوالہ بخدا کرو۔