ہوں گے ۔ ان کی راتیں ذکر اور فکر میں گزرتیں تھیں اور ان کی زندگی کیسے بسر ہوتی تھی۔ ؟قرآن کریم کی ذیل کی آیت شریفہ ان کے طریق زندگی کا پورا نقشہ کھینچ کر دکھاتی ہے۔ومن رباط الخیل تر ھبون بہ عدو اللہ وعدوکم (انفال:۱۶) اور یا ایھا الذین امنو اصبرو وصابرو ورابطو ا(آل عمران:۲۰۱)اور سرحد پہ گھوڑے باندھے رکھو کہ خدا کے دشمن اور تمہارے دشمن اس تمہاری تیاری اور استعداد سے ڈرتے رہیں ۔اے مومنو! صبر اور مصابرت اور مرابطت کرو۔
رباط کے معنی
رباط ان گھوڑوں کو کہتے ہیں جو دشمن کی سرحد پر باندھے جاتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ صحابہ کو اعداد کے مقابل کے لئے مستعد رہنے کا حکم دیتا ہے ۔اور اس رباط کے لفظ سے انہیں پوری اور سچی تیاری کی طرف متوجہ کرتا ہے ۔ان کے سپرد دو کام تھے۔ ایک ظاہری دشمن کا مقابلہ اور دوسرا روحانی مقابلہ اور رباط لگت میں نفس اور نفسانی دل کو بھی کہتے ہیں اور یہ ایک لطیف بات ہے کہ گھوڑے وہی کام کرتے ہیں۔ جو سدھائے ہوئے اورتعلیم یافتہ ہوں۔ آجکل گھوڑوں کی تعلیم وتربیت کا اسی انداز پر لحاظ رکھا جاتا ہے اور اسی طرح ان کو سدھایا اور سکھایا جاتا ہے۔ جس طرح بچوں کو سکولوں میں خاص احتیاط اور اہتمام سے تعلیم دی جاتی ہے ۔اگر ان کو تعلیم نہ دی جائے اور وہ سدھائے نہ جائیں ،تو وہ بالکل نکمے ہوں اور بجائے مفید ہونے کے خوفناک اور مضر ثابت ہوں ۔
یہ اشارہ اس امر کی طرف بھی ہے کہ انسانوں کے نفوس یعنی رباط بھی تعلیم یافتہ ہونے چاہیے اور ان کے قویٰ اور طاقتیں ایسی ہونی چاہییںجو اللہ تعالیٰ کی حدود کے نیچے نیچے چلیں، کیوں کہ اگر ایسا نہ ہو۔ تو وہ اس حرب اور اجدال کا اکم نہ دے سکیں گے جو انسان اور اس کے خوفناک دشمن یعنی شیطان کے درمیان اندرونی طور پر پر ہر لحظہ اور ہر آن جاری ہے ۔جیسا کہ لڑائی اور میدان جنگ میں علاوہ توائے بدنی کے تعلیم یافتہ ہونا بھی ضروری ہے۔ اس طرح اس اندرونی حرب اور جہاد کے لئے نفوس انسانی کی تربیت اور مناسب تعلیم مطلوب ہے ۔اور اگر ایسا نہ ہو تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ شیطان اس پر غالب آجائے گا اور وہ بہت بری طرح ذلیل اوررسواہوگا۔مثلاً اگر ایک شخص توپ تفنگ ،اسلحہ حرب بندوق وغیرہ تو رکھتا ہو، لیکن اس کے استعمال اور چلانے سے ناواقف محض ہو۔ تو وہ دشمن کے مقابلہ میں کبھی عہدہ بر آ نہیں ہو سکتا ۔اور تیر وتفنگ اور سامان حرب بھی ایک شخص رکھتا ہو اور ان کا استعمال بھی کرنا جانتا ہو ۔لیکن اس کے بازو میں طاقت نہ ہو تو وہ بھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ صرف طریق اور طرز استعمال کا سیکھ لینا بھی کار آمد اور مفید نہیں ہوتا۔ جب تک ورزش اور مشق کر کے بازو میں توانائی اور قوت پیدا نہ کر لی جائے ۔اب اگر ایک شخص جو تلوار چلانا تو جانتا ہے لیکن ورزش اور مشق نہیں رکھتا ،تو میدان حرب میں جا کر یونہی تین چار دفعہ تلوار کو حرکت دے گا اور دو ایک ہاتھ مارے گا۔ اس کے بازو نکمے ہو جائیں گے اور وہ تھک کر بالکل بے کار ہو جائے گا اور خود ہی آخر کار دشمن کو شکار ہو جائے گا۔