جس کی نظر اندرونہ تک نہیں پہنچتی، اس اندھے ہی کی مانند ہے۔ خلق تو ایک بدیہی بات ہے۔مگر خُلق ایک نظری مسئلہ ہے۔ اگر اخلاقی بدیاں اور ان کی *** معلوم ہو۔ تو حقیقت کُھلے۔ غرض اخلاقی خوب صورتی ایک ایسی خوبصورتی ہے، جس کو حقیقی خقب صورتی کہنا چاہیے۔ بہت تھوڑے ہیں جو اس کو پہچانتے ہیں۔ اخلاق نیکیوں کی کلید ہے۔ جیسے باغ کے دروازے پر قفل ہو۔ دُور سے پھل پھول نظرآتے ہیں ۔ مگر اندر نہیں جاسکتے۔ لیکن اگر قفل کھول دیا جاوے ، تو اند رجاکر پوری حقیقت معلوم ہوتی ہے اور دل و دماغ میں ایک سرور اور تازگی آتی ہے۔ اخلاق کو حاصل کرنا گویا اس قفل کو کھول کر اندر داخل ہونا ہے۔
ترکِ اخلاق ہی بدی اورگناہ ہے کسی کو اخلاق کی کوئی قوت نہیں دی گئی، مگر اس کو بہت سی نیکیوں کی توفیق ملی۔ ترکِ اخلاق ہی بدی اور گناہ ہے۔ ایک شخص جو مثلاً زِنا کرتا ہے۔ اُس کو خبر نہیں کہ اُس عورت کے خاوند کو کس قدر صدمہ عظیم پہنچتا ہے۔ اب اگر یہ اُس تکلیف اور صدمہ کو محسوس کرسکتا اور اس کو اخلاقی حصہ حاصل ہوتا، تو ایسے فعلِ شیع کا مُرتکب نہ ہوتا۔ اگر ایسے نابکار انسان کو یہ معلوم ہوجاتا کہ اس فعلِ بد کے ارتکاب سے نوعِ انسان کے لئے کیسے کیسے خطرناک نتائج پیدا ہوتے ہیں تو ہٹ جاتا۔ ایک شخص جو چوری کرتا ہے۔ کمبخت ظالمِ اتنا بھی تو نہیں کرتا کہ رات کے کھانے کے واسطے ہی چھوڑ جائے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایک غریب کی کئی سالوں کی محنت کو ملیا میٹ کردیت اہے اور جو کچھ گھر میں پاتا ہے۔ سب کا سب لے جاتا ہے۔ ایسی قبیح بدی کی اصل جڑ کیا ہے؟ اخلاقی قوت کا نہ ہونا۔ اگر رحم ہوتا اور وہ یہ سمجھ سکتا کہ بچے بھوک سے بلبلائیں گے۔ جن کی چیخوں سے دشمن کا بھی کلیجہ لرزتا ہے اور یہ معلوم کرکے کہ رات سے بھوکے ہیں اور کھانے کو ایک سوکھا ٹکڑا بھی نہیں ملا، تو پتا پانی ہوجاتا ہے۔ اب اگر ان حالتوں کو محسوس کرتا اور اخلاقی حالت سے اندھا نہ ہوتا، تو کیوں چوری کرتا۔آئے دن اخبارات میں دردناک موتوں کی خبریں پڑھنے میں آتی ہیں کہ فلاں بچہ زیور کے لالچ سے مارا گیا۔ فلاں جگہ کسی عورت کو قتل کرڈالا۔ مَیں کود ایک مرتبہ اس یسر ہوکر گیا تھا۔ ایک شخص نے بارہ آنے یا ۴ ((سوا روپیہ) میں ایک بچہ کا خون کیا تھا۔ اب سوچ کر دیکھو کہ اگر اخلاقی حالت دُرست ہوتوایسی مصیبتیں کیوں آئیں؟ ممکن ہے کہ اپنے جیسے انسان پر مصیبت آئے