کہ سائل کو مت جھڑک۔ اس میں یہ کوئی صراحت نہیں کی گئی کہ فلاں قسم کے سائل کو مت جھڑک اور فلاں قسم کے سائل کو جھڑک۔ پس یادرکھو کہ سائل کو نہ جھڑکو، کیونکہ اس سے ایک قسم کی بداخلاقی کا بیج بویا جاتا ہے۔ اخلاق یہی چاہتا ہے کہ سائل پر جلدی ناراض نہ ہو۔ یہ شیطان کی خواہش ہے کہ وہ اس طریق سے تم کو نیکی سے محروم رکھے اور بدی کا وارث بنادے۔ ایک نیکی سے دوسرے نیکی پیدا ہوتی ہے غور کرو کہ ایک نیکی کرنے سے دوسری نیکی پیدا ہوتی ہے اور اسی طرح پر ایک بدی دُوسری بدی کا موجب ہوجاتی ہے۔ جیسے ایک چیز دوسری کو جذب کرتی ہے اسی طرح خداتعالیٰ نے یہ تجاذب کا مسئلہ ہر فعل میں رکھا ہوا ہے۔ پس جب سائل سے نرمی کے ساتھ پیش آئے گا اور اس طرح رپ اخلاقی صدقہ دے دے گا ، تو قبض دُور ہوکر دُوسری نیکی بھی کرلے گا اور اُس کو کچھ دے بھی دے گا۔ اخلاق نیکیوں کی کلید ہے اخلاق دوسری نیکیوں کی کلید ہے۔ جو لگو اخلاق کی اصلاح نہیں کرتے وُہ رفتہ رفتہ بے خیر ہوجاتے ہیں۔ میرا تویہ مذہب کہ دُنیا  میں ہر ایک چیز کام آتی ہے۔ زہر اور نجاست بھی کام آتی ہے۔ اسٹرکنیا بھی کام آتا ہے۔ اعصاب پر اپنا اثر ڈالتا ہے۔ مگر انسان جو اخلاقِ فاضلہ کو حاصل کرکے نفع رساں ہستی نہیں بنتا۔ ایساہوجاتا ہے کہ وہ کسی بھی کام نہیں آسکتا۔ مُردار حیوان سے بھی بدتر ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اس کی تو کھال اور ہڈیاں بھی کام آجاتی ہیں۔ اُس کی تو کھال بھی کام نہیں آتی۔ اور یہی وہ مقام ہوتا ہے۔ جہاں انسان بل ھم اضل کا مصداق ہوجاتا ہے۔ پس یادرکھو کہ اخلاق کی درسی بہت ضروری چیز ہے، کیونکہ نیکیوں کی ماں اخلاق ہی ہے۔ خیر کا پہلا درجہ جہاں سے انسان قوت پاتا ہے۔ اخلاق ہے۔ دو لفظ ہیں۔ ایک خلق اور دوسرا خُلق۔ خلق ظاہری پیدائش کا نام ہے اور خلق باطنی پیدائش کا۔ جیسے ظاہر میںکوئی خوب صورت ہوتا ہے اور کوئی بہت ہی بدصورت۔ اسی طرح پر کوئی اندرونی پیدائش میں نہایت حسین اور دلربا ہوت اہے اور کوئی اندر سے مجذوم اور مبروص کی طرح مکروہ۔ لیکن ظاہری صورت چونکہ نظرآتی ہے، اس لیے ہر شخص دیکھتے ہی پہچان لیتا ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے اور نہیں چاہتا کہ بدصورت اور بدوضع ہو، مگر چونکہ اس کو دیکھتا ہے اس لیے اُس کو پسند کرتا ہے اور خُلق کو چونکہ دیکھا نہیں، اس لیے اُس کی خوبی سے ناآشنا ہوکر۔ اُس کو نہیں چاہتا۔ ایک اندھے کے لئے خوبصورتی اور بدصورتی دونوں ایک ہی ہیں۔ اسی طرح پردہ انسان