اور یہ محسوس نہ کرے۔ چارپایوں جیسے خصائل یاکلون کما تاکل االانعام (محمد:۱۳) چارپایوں کی طرح کھاتے ہیں۔ اس کے کئی پہلو ہیں: اول چار پایہ کیفیت اور کمیت میں فرق نہیں کرسکتا اور جو کچھ آگے آتا ہے اور جس قدر آتا ہے، کھاتا ہے۔ جیسے کتا اس قدر کھاتا ہے کہ آخرقے کرتا ہے۔ دوسرا یہ کہ انعام حلال اور حرام میں تمیز نہیں کرتے۔ ایک بیل بھی یہ تمیز نہیں کرتا کہ یہ ہمسایہ کا کھیت ہے۔ اس میں نہ جائوں۔ ایسا ہی ہر ایک امر جو کھانے کے لحاظ سے ہو۔ نہیں کرتا۔ کُتے کو ناپاکی پاکی کے متعلق کوئی لحاظ نہیں اور پھر چارپایہ کو اعتدال نہیں۔ یہ لوگ جو اخلاقی اُصولوں کو توڑتے ہیں اور پروا نہیں کرتے کہ گویا انسان نہیں۔ پاک پلید کاتو یہ حال، عرب میں مُردے کتے کھالیتے تھے۔ ابتک اکثر ممالک میں یہ حال ہے کہ چوہوں اور کتوں اور بلیوں کو بڑے لذیذ کھانے سمجھ کر کھایا جاتا ہے۔ چوہڑے چمار مُردار کور قومیں یہاں بھی موجود ہیں۔ پھر یتیموں کا مال کھانے میں کوئی تردد و تامل نہیں۔ جیسے یتیم کا گھاس گائے کے سامنے رکھ دیا جاوے۔ بلا تردد کھالے گی۔ ایسا ہی ان لوگوں کا حال ہے۔ یہی معنے ہیں والنار مثوی لھم (محمد:۱۳) ان کا ٹھکانا دوزخ ہوگا۔ غرض یادرکھو کہ دو پہلو ہیں۔ ایک عظمت الہٰی کا جور اُس کے خلاف ہے۔ وُہ بھی اخلاق کے خلاف ہے اور دوسرا شفقت علی خلق اللہ کا۔ پس جو نوعِ انسان کے خلاف ہو۔ وُہ بھی اخلاق کے برخلاف ہے۔ آہ! بہت تھوڑے لوگ ہیں جو ان باتوں پر جو انسان کی زندگی کا اصل مقصد اور غرض ہیں۔ غور کرتے ہیں۔ خوساختہ وظائف واذکار بڑے بڑے صوفیوں ، سجادہ نشینوں نے اپنا کمال اس میں سمجھ رکھا ہے کہ بڑے لمبے چوڑے وظائف اور اذکارواشغال خود ہی تجویز  کرلیے ہیں۔اور اُن میں پڑ کر اصل کو بھی کھوبیٹھے ہیں۔ پھر بڑے سے بڑا کام کیاتو یہ کرلیا کہ چلہ کرتے ہیں۔ کچھ جو ساتھ لے جاتے ہیں۔ ایک آدمی مقرر کرلیتے ہیں جو دودھ یا کوئی اورچیز پہنچاآتا ہے۔ ایک تنگ و تاریک گندی سی کوٹھڑی یا غار ہوتی ہے اور اس میں پڑے رہتے ہیں ۔ خدا جانے وہ اس میں کس طرح رہتے ہیں۔ پھر بُری بُری حالتوں میں باہر نکلتے ہیں۔ یہ اسلام رہ گیا ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ان چلہ کشیوں سے اسلام اور مُسلمانوں یا عام لوگو کو کیا فائدہ پہنچتا ہے اور اس میں اخلاق میں کیا ترقی ہوتی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی علوِ شان سب عزتوں سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت ہے۔ جس کا کل اسلامی دُنیا پر اثر ہے۔