سے پریشان ہوتو جب تک مال نہ ہو۔ اس کی ہمدردی کیونکر ہوگی۔ مگر دعا کے سات ہمدردی ایک ایسی ہمدردی ہے کہ نہ اس کے واسطے کسی مال کی ضرورت ہے اور نہ کسی طاقت کی حاجت بلکہ جب تک انسان انسان ہے۔ وہ دُوسرے کے لیے دُعا کرسکتا ہے اور اس کو فائدہ پہنچاسکتا ہے۔ اس ہمدردی کا فیض بہت وسیع ہے اور اگر اس ہمدردی سے انسان کام نہ لے، تو سمجھو بہت ہی بڑا بدنصیب ہے۔
مَیں نے کہا ہے کہ مالی اور جسمانی ہمدردی میں انسان مجبور ہوتا ہے، مگردُعا کے ساتھ ہمدردی میں مجبور نہیں ہوتا۔ میر اتو یہ مذہب ہے کہ دُع امیں دشمنوں کو بھ باہر نہ رکھے۔ جس قدر دُعا وسیع ہوگی اسی قدر فائدہ دُعا کرنے والے کو ہو گا اور دُعا میں جس قدر بخل کرے گا۔ اسی قدر اللہ تعالیٰ کے قرب سے دُور ہوتا جائے گا اور اصل تویہ ہے کہ خداتعالیٰ کے عطیہ کو جو بہت وسیع ہے جو شخص محدود کرتا ہے اس کا ایمان بھی کمزور ہے۔
لمبی عمر پانے کا نسخہ دُوسروں کے لئے دُعا کرنے میں ایک عظیم الشان فائدہ یہ بھی ہے کہ عمردراز ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں یہ وعدہ کیا ہے کہ جولوگ دُوسروں کونفع پہنچاتے ہیں اور مفید وجود ہوتے ہیں، اُن کی عمردراز ہوتی ہے۔ جیسا کہ فرمایا: اما ماینفع الناس فیمکث فی الارض (الرعد:۱۸) اوردُوسری قسم کی ہمدردی چونکہ محدود ہیں۔ اس لیے خصوصیت کے ساتھ جو خیر جاری قرار دی جاسکتی ہے۔ وُہ یہی دُعا کی خیر جاری ہے۔ جب کہ خیر کا نفع کثرت سے ہے تو اس آیت کا فائدہ ہم سب سے زیادہ دُعا کے ساتھ اُٹھاسکتے ہیں اور یہ بالکل سچی بات ہے کہ جو دُنیا میں خیر کا موجب ہوت اہے ۔ اس کی عمر دراز ہوتی ہے اور جو شر کا موجب ہوت اہے۔ وہ جلدی اُٹھا لیا جاتا ہے۔ کہتے ہیں شیر سنگھ چڑیوں کو زندہ پکڑ کر آگ پر رکھاکرتاتھا۔ وہ دو برس کے اندر ہی ماراگیا۔ پس انسان کو لازم ہے کہ وہ خیرالناس من ینفع الناس بننے کے واسطے سوچتا رہے اور مطالعہ کرتارہے۔ جیسے طبابت میں حیلہ کام آتا ہے۔ اسی طرح نفع رسانی اور خیر میں بھی حیلہ ہی کام دیتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ انسان ہر وقت اس تاک اور فکر میں لگارہے کہ کس راہ سے دُوسرے کوفائدہ پہنچاسکتا ہے۔
سائل کو جھڑکنا نہیں چاہیے بعض آدمیوں کی عادت ہوتی ہے کہ سائل کو دیکھ کر چڑ جاتے ہیں۔ اور کچھ مولویت کی رگ ہو، تو اس کو بجائے کچھ دینے کےسوال کے مسائل سمجھانا شروع کردیئے ہیں اور اس پر اپنی مولویت کا رُعب بٹھا کر بعض اوقات سخت سُست بھی کہہ بیٹھتے ہیں۔ افسوس ان لوگوں کو عقل نہیں اور سوچنے کا مادہ نہیں رکھتے، جو ایک نیک دل اور سلیم الفطرت انسان کو ملتا ہے۔ اتنا نہیں سوچتے کہ سائل اگر باوجود صحت کے سوال کرتا ہے ، تو وہ خود گناہ کرتا ہے۔ اس کو کچھ دینے میں تو گناہ لازم نہیں آتا، بلکہ حدیث شریف میں لواتاک راکباً کے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی خواہ سائل سوار ہوکر بھی آوے تو بھی کچھ دے دینا چاہیے اورقرآن شریف میں واما السآئل فلاتنھر(الضحٰی:۱۱) کا ارشاد آیا ہے