میں ہے وُہ ابھی پیدا نہیں ہوا اور اس حالت کو دیکھ کر میری وہی حالت ہے۔ لعلک باخع نفسک الا کونوامومنین۔(الشعراء:۴) مَیں نہیں چاہتا کہ چند الفاظ طوطے کی طرح بیعت کے وقت رَٹ لیے جاویں۔ اس سے کچھ فائدہ نہیں۔ تزکیۂ نفس کا علم حاصل کرو کہ ضرورت اسی کی ہے۔ ہماری یہ غرض ہرگز نہیں کہ مسیح ؑ کہ وفات حیات پر جھگڑے اور مباحثہ کرتے پھرو۔ یہ ایک ادنیٰ سی بات ہے۔ اسی پر بس نہیں ہے۔ یہ تو ایک غلطی تھی، جس کی ہم نے اصلاح کر دی، لیکن ہمارا کام اور ہماری غرض ابھی اس سے بہت دُورہے اور وُہ یہ ہے کہ تم اپنے اندر ایک تبدیلی پیداکرو اور بالکل ایک نئے انسان بن جائو، اس لیے ہر ایک کوتم میں سے ضروری ہے کہ وُہ اس راز کو سمجھے اور ایسی تبدیلی کرے کہ وہ کہہ سکے کہ مَیں پھرکہتا ہوں کہ یقینا یقینا جب تک ایک مدت تک ہماری صُحبت میں رہ کر یہ نہ سمجھے کہ مَیں اور ہوگیا ہوں، اسے فائدہ نہیں پہنچتا۔ فطرت اور عقلی حالت اور جذبات کی حالت میں اعلیٰ درجہ کی صفائی حاصل ہوجاوے، تم کچھ بات ہے؛ ورنہ کچھ بھی نہیں۔ میرا مطلب یہ نہیں کہ دُنیا کے اشغال چھوڑ دو۔ خداتعالیٰ نے دُنیا کے شغلوں کے جائز رکھا ہے، کیونکہ اس راہ سے بھی ابتلاآتا ہے اور اسی ابتلا کی وجہ سے انسان چور، قمارباز،ٹھگ، ڈکیت بن جاتا ہے اور کیا کیا بُری عادتیں اختیار کرلیتا ہے، مگر ہر ایک چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔ دینوی شغلوں کو اس حد تک اختیار کرو کہ وہ دین کی راہ میں تمہارے لیے مددکا سامان پیدا کرسکیں اور مقصُود بالذات اس میں دین ہی ہو۔ پس ہم دینوی شغلوں سے بھی منع نہیں کرتے اور یہ بھی نہیں کہتے کہ دن رات دُنیا کے دھندوں اور بکھیڑوں میںمنہمک ہوکر خداتعالیٰ کا خانہ بھی دُنیا ہی سے بھردو۔ اگ کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ محرومی کے اسباب بہم پہنچاتا ہے اور اس کی زبان پر نرا دعویٰ ہی رہ جاتا ہے۔ الغرض زندوں کی صحبت میں رہو تاکہ زندہ خدا کا جلوہ تم کو نظر آوے۔‘‘ ۹؍جولائی ۱۹۰۰؁ء دُعا بہترین ہمدردی ہے یادرکھو۔ ہمدردی تین قسم کی ہے۔ اوّل جسمانی، دوم مالی، تیسری قسم ہمدردی کی دُعا ہے۔ جس میں نہ صرف زر ہوتا ہے۔ وور نہ زورلگانا پڑتا ہے اور اس کا فیض بہت ہی وسیع ہے ، کیونکہ جسمانی ہمدردی تو اس صورت میں ہی انسان کرسکتا ہے۔ جب کہ اس میں طاقت بھی ہو۔ مثلاًایک ناتواں مجروح مسکین اگر کہیں پڑا تڑپتا ہو، تو کوئی شخص جس میں خود طاقت اورتوانائی نہیں ہے، کب اُس کو اُٹھا کر مدددے سکتا ہے۔ اسی طرح پر اگر کوئی بیکس دبے بس ، بے سرو سامان انسان بھوک