پھر ہم جو ایک نئی زمین اور ایسی زمین دیتے ہیں جس میں اگر صفائی اور محنت سے کاشت کی جاوے ، تو ابدی پھیل لگ سکتے ہیں۔کیوں یہاں آکر لوگ گھر نہیں بناتے اور اگر اس بے احتیاطی کے ساتھ اس زمین کو کوئی لیتا ہے کہ بیعت کے بعد یہاں آنا اور چندروز ٹھہرنا بھی دوبھر اور مشکل معلوم دیتا ہے تو پھر اس کی فصل کے پکنے اور بارآور ہونے کی کیا اُمید ہوسکتی ہے۔ خداتعالیٰ نے قلب کا نام بھی زمین رکھا ہے۔ اعلمو اان اللہ یحی الارض بعد موتہا (الحدید:۱۸) زمیندار کو کس قدر ترددد کرنا پڑتا ہے ۔ بیل خریدتا ہے۔ ہل چلاتا ہے۔ تخمریزی کرتا ہے۔ آبپاشی کرتا ہے۔ غرض کہ بہت بڑی محنت کرت اہے اور جب تک کود دخل نہ دے کچھ بھی نہیں بنتا۔ لکھا ہے کہ ایک شخص نے پتھر پر لکھا دیکھا۔ زرع زر ہی زر ہے۔‘‘ کھیتی تو کرنے لگا، مگر نوکروں کے سُپرد کردی۔ لیکن جب حساب لیا۔ کچھ وصول ہونا تو درکنار کچھ واجب الادا ہی نکلا۔ پھر اُس کو اس موقعہ پر شک پیدا ہوا تو کسی دانشمند نے سمجھایا کہ نصیحت تو سچی ہے، لیکن تمہاری بے وقوفی ہے۔ خود مہتمم بنو، تب فائدہ ہوگا۔ ٹھیک اسی طرح پر ارضِ دل کی خاصیت ہے جو اُس کو بے عزتی کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اس کو خداتعالیٰ کا فضل اور برکت نہیں ملتی۔ یادرکھو، مَیں جو اصلاحِ خلق کے لئے آیا ہوں جو میرے پاس آتا ہے وہ اپنی استعداد کے موافق ایک فضل کا وارث بنتا ہے، لیکن مَیں صاف طور پر کہتا ہوں کہ وہ جو سرسری طور پر بیعت کرکے چلا جاتا ہے اور پھر اُس کا پتہ بھی نہیں ملتا کہ کہاں ہے اور کیا کرتاہے۔ اُس کے لئے کچھ نہیں ہے وہ جیساتہی دست آیا تھا، تہی دست جاتا ہے۔ یہ فضل اور برکت صُحبت میں رہنے سے ملتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صحابہ ؓ بیٹھے۔ آخرنتیجہ یہ ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اللہ فی اصحابی۔ گویا صحابہ ؓ خدا کا رُوپ ہوگئے۔ یہ درجہ ممکن نہ تھا کہ اُن کو ملتا۔ اگر دُور ہی بیٹھے رہتے۔ یہ بہت ضروری مسئلہ ہے ۔خدا کاقُرب ، بندگانِ خدا کاقرب ہے اور خداتعالیٰ کا ارشاد کونوامع الصادقین(التوبہ:۱۱۹) اس پر شاہد ہے۔ یہ ایک سر ہے جس کو تھوڑے ہیں جو سمجھتے ہیں۔ مامورمن اللہ ایک ہی وقت میں ساری باتیں کبھی بیان نہیں کرسکتا، بلکہ وُہ اپنے دوستوں کے امراض کی تشخیص کرکے حسبِ موقع اُن کی اصلاح بذریعہ وعظ و نصیحت کرتارہتاہے اور وقتاً فوقتاً وہ اُن کے امراض کا ازالہ کرتا رہتا ہے۔ اب جیسے آج میں ساری باتیں بیان نہیں کرسکتا۔ ممکن ہے کہ بعض آدمی ایسے ہوں، جو آج ہی تقریر سُن کر چلے جاویں اور بعض باتیں اس میں اُن کے مذاق اور مرضی کے خلاف ہوں، تو وُہ محروم گئے، لیکن جو متواتر یہاں رہتا ہے۔ وُہ ساتھ ساتھ ایک تبدیلی کرتا جاتا ہے اور آخر اپنے مقصد کو پالیتا ہے۔ ہر ایک آدمی سچی تبدیلی کا محتاج ہے۔ جس میں تبدیلی نہیں ہے، وہ من کان فی ھذہٖ اعمیٰ کا مصداق ہے۔ جماعت میں ایک پاک تبدیلی پیدا ہو مجھے بہت سوزو گداز رہتا ہے کہ جماعت میں ایک پاک تبدیلی ہو۔ جو نقشہ اپنی جماعت کی تبدیلی کامیرے دل