بعض لوگ اس طرح کہتے ہیں کہ میاں ہم نے کوئی ولی بنانا ہے؟جو ایسا کہتے ہیں وہ دنی الطبع کافر ہیں۔انسان کو مناسب ہے کہ قانون قدرت کو ہاتھ میں لے کر کام کرے۔
مُردہ سے مدد مانگنا جائز نہیں اب ساری بات کا خلاصہ یہ ہے کہ ُمردوں سے مددمانگنے کا خدا نے کہیں ذکر نہیں ہے کیا ،بلکہ زندوں کا ہی ذکر کیا ہے۔خدا
تعالیٰ نے بڑا فضل کیا کہ جو اسلام کو زندوں کے سپرد کیا ۔اگر اسلام کو مُردوں پر ڈالتا تو نہیں معلوم کیاآفت آتی۔مُر دوں کی قبریں کہاں کم ہیں۔کیا ملتان میں قبریں تھوڑیں ہیں ۔’’گردو گرما گداد گو رستان۔‘‘اس کی نسبت مشہور ہے۔ میں بھی ایک بار بار ملتان گیا ۔جہاں کس کی قبر پر جاؤ مجاور کپڑے اتارنے کو گرد ہو جاتے ہیں۔پاک پٹن میں مردوں کے فیضان سے دیکھ لو کیا ہو رہا ہے؟اجمیر میں جا کر دیکھو۔بد عات اور محدثات کا بازار کیا گرم ہے۔غرض جب مُردوں کو دیکھو گے اس نتیجہ پر پہنچو گے کہ ان کے مشاہدہ میں سوا بد عات اور ارتکاب مناہی کے کچھ نہیں۔خدا تعالیٰ نے جو صراط مستقیم فرمایا ہے وہ زندوں کی راہ ہے،مُردوںکی راہ نہیں۔پس جو چاہتا ہے کہ خدا کو پائے اور حیی القیوم خدا کو پائے،تو وہ زندوں کو تلاش کرے،کیونکہ ہمارا خدا زندہ خدا ہے نہ مُردہ،جن کی کتاب مُردہ،وہ مُردوں سے برکت پائیں،تو کیا تعجب ہے۔لیکن اگر سچا مسلمان جس کا خدا زندہ ہے،جس کا نبی زندہ نبی،جس کی کتاب زندہ کتا ب ہے اور جس دین میں ہمیشہ زندوں کا سلسلہ جاری ہو اور ہر زمانہ میں ایک زندہ انسان خدا تعالیٰ کی ہستی پر زندہ ایمان پیدا کرنے والا آتا ہو۔وہ اگر اس زندہ کو چھوڑ کر بوسیدہ ہڈیوںاور قبروںکی تلاش میں سر گرداںہو تو البتہ تعجب اور حیرت کی بات ہے!!!
زندوں کی صحبت تلاش کرو پس تم کو چاہیے کہ تم زندوں کی صحبت تلاش کرو اور باربار پاس کے پاس آکر بیٹھو۔ ہاں ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ ایک دو مرتبہ میں تاثیر نہیںہوتی۔ سنت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ ترقی تدریجاً ہوتی ہے۔ جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ میں تدریجی ترقی ہوئی۔ جو سلسلہ منہاج نبوۃ پر قائم ہوگا۔ اس میں بھی تدریجی ترقی کا قانون کام کرتا ہوگا۔ پس چاہیے کہ صحابہ ؓ کی طرح اپنے کاروبار چھوڑ کر یہاں آکر بار بار اور عرصہ تک صُحبت میں رہو تاکہ تم دیکھو جو صحابہ ؓ نے دیکھ اور پائو جو ابوبکر ؓ اور عمرؓ اور دیگر رضی اللہ عنہم نے پایا۔ کسی نے سچ کہا ہے:
یاتُوں لوڑ مقدمی یا توُں اللہ نُوں لوڑتم دیکھتے ہوکہ میں بیعت مَیں یہ اقرار لیتاہوں کہ دین کو دُنیا پر مقدم رکھوں گا۔ یہ اس لیے تاکہ مَیں دیکھو ں کہ بیعت کنندہ اس پر کیا عمل کرتاہے؟ ذرہ سی نئی زمین کسی کو مل جاوے تو وُہ گھربار چھوڑ کر وہاں جابیٹھتا ہے اور ضروری ہوتا ہے کہ وہ وہاں رہے تاوہ زمین آباد ہو۔ محمد حسین جیسے کو بھی بار میں جاکر ٹھہرنے کی ضرورت آپڑی۔