خداتعالیٰ سے روکتے ہیں۔ پس استغفار کے یہی معنے ہیں کہ زہریلے مواد جو حملہ کرکے انسان کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں۔ اُن پر غالب آوے اور خداتعالیٰ کے احکام کی بجاآوری کی راہ کی روکوں سے بچ کر انہیں عملی رنگ میں دکھائے۔ یہ بات بھی یادرکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان میں دو قسم کے مادے رکھے ہیں۔ ایک سمی مادہ ہے جس کا موکل شیطان ہے اور دُوسراتریاقی مادہ ہے۔ جب انسان تکبر کرتا ہے اور اپنے تیئں کچھ سمجھتا ہے اور تریاقی چشمہ سے مدد نہیں لیتا۔ تو سمی قوت غالب آجاتی ہے، لیکن جب اپنے تیئں ذلیل و حقیر سمجھتا اور اپنے اندر اللہ تعالیٰ کی مدد کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ اُس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک چشمہ پیدا ہو جاتا ہے۔جس سے اس کی روح گداز ہو کر بہہ نکلتی ہے۔اور یہی استغفار کے معنی ہیں۔یعنی یہ کہ اس وقت کو پا کر زہریلے مواد پر غالب آجاوے۔ غرض اس کے معنی یہ ہیں کہ عبادت پر یوں قائم رہو۔اول رسول کی اطاعت کرو دوسرے ہر وقت خدا سے مدد مانگو ۔ہاں پہلے اپنے رب سے مدد چاہو۔جب قوت مل گئی تو توبو الیہ یعنی خدا کی طرف رجوع کرو۔ استغفار کو توبہ پر تقدم حاصل ہے استغفار اور توبہ دو چیزیں ہیں۔ایک وجہ تو استغفار کو توبہ پر تقدم ہے۔کیونکہ استغفار مدد اور قوت ہے جو خداسے  حاصل کی جاتی ہے اور تو بہ اپنے قدموں پر کھڑا ہونا ہے۔عادۃ اللہ یہی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ سے مدد چاہے گا،تو خدا تعالیٰ ایک قوت دے دے گا اور پھر اس وقت کے بعد انسان اپنے پاوں پر کھڑا ہو جاوے گا اور نیکیوں کے کرنے کے لئے اس کے پاس ایک وقت پیدا ہو جائے گی۔جس کا نام تو بو الیہ ہے۔اس لئے طبعی طور پر یہی ترتیب ہے۔غرض اس میں ایک طریق ہے جو سالکوں کے لئے رکھا ہے کہ سالک ہر حالت میں خدا سے استمداد چاہے ۔سالک جب تک اللہ تعالیٰ سے قوت نہ پائے گا ،کیا کر سکے گا۔توبہ کی توفیق استغفار کے بعد ملتی ہے ۔اگر استغفار نہ ہو،تو یقیناً یاد رکھو کہ توبہ کی قوت مر جاتی ہے ۔پھر اگر اس طرح پر استغفار کرو گے اور پھر توبہ کرو گے،تو نتیجہ یہ ہو گا ۔یمتعکم متا عا حسناً الی اجل مسمی(ھود:۴)سنت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ اگر استغفار اور توبہ کرو گے تو اپنے مراتب پا لو گے۔ہر ایک شخص کے لئے ایک دائرہ ہے۔جس میں وہ مدارج ترقی کو حاصل کرتا ہے۔ہر ایک آدمی نبی رسول صدیق شہید نہیں ہو سکتا۔ غرض اس میں شک نہیں کہ تفاضل درجات امر حق ہے۔اس کے ااگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان امور پر مواظبت کرنے سے ہر ایک سالک اپنی اپنی استعداد کے موافق درجات اور مراتب کو پا لے گا۔یہی مطلب ہے اس آیت کا و یوت کل ذی فضل فضلہ(ھود:۴)لیکن اگر زیاوت لے کر آیا ،توخدا تعالیٰ اس مجاہدہ میں اس کو زیادت دے دے گا اور اپنے فضل کو پا لے گا،جو طبعی طور پر اس کا حق ہے۔ذی الفضل کی اضافت ملکی ہے۔مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ محروم نہ رکھے گا۔