زمین وآسمان پُر ہیں ۔پس یقیناً سمجھ لو کہ قدرت کے ان عجایبات اور صنعتوں کو دیکھ بھی جن میں انسانی ہاتھ عقل و دماغ کا کام نہیں۔ اگر کوئی بے وقوف خدا کی ہستی اور وجود میں شک لائے ۔تو وہ بد قسمت انسان شیطان کے پنجے میں گرفتار ہے اور اس کو استغفار کرنا چاہیے ۔خدا کی ہستی کا انکار دلیل اور رویت کی بنا پر نہیں، بلکہ اللہ جل شانہ کی ہستی کا انکار کرنا باوجود مشاہدہ کرنے کے اس کی قدرتوں اور عجائبات مخلوقات اور مسنوعات کے جو زمین و آسمان میں بھرے پڑے ہیں۔ بڑی ہی نابینائی ہے۔
نابینائی کی دو قسمیں ہیں۔ ایک آنکھوں کی بینائی ہے اور دوسری دل کی، آنکھوں کی بینائی کا اثر ایمان پر کچھ نہیں ہوتا، مگر دل کی بینائی کا اثر دل پر پڑتا ہے ،اس لئے ضروری ہے کہ بہت ضروری ہے کہ ہر ایک شخص اللہ تعالیٰ سے پورے تذلل اور انکسار کے ساتھ ہر وقت دعا مانگتا رہے کہ وہ اسے سچی معرفت اور حقیقی بصیرت اور بینائی عطا کرے اور شیطان کے وساوس سے محفوظ رکھے۔
آخرت پر ایمان
شیطان ک وساوس بہت ہیں اور سب سے زیادہ خطر ناک وسوسہ اور شبہ جو انسانی دل میں پیدا ہو کر است خسر الدنیا ولاخرۃ کر دیتا ہے ۔آخرت کے متعلق ہے، کیونکہ تمام نیکیوں اور راستبازیوں کا بڑا بھاری ذریعہ منجملہ دیگر اسباب اور وسائل کے آخرت پر ایمان بھی ہے اور جب انسان آخرت اور اس کی باتوں کو قصہ اور داستاں سمجھے تو سمجھ لو کہ وہ رد ہو گیا اور دونوں جہانوں سے گز را ہوا۔اس لئے کہ آخرت کا ڈر بھی تو انسان کو خائف اور ترساں بنا کر سچے چشمہ کی طرف کشاں کشاں لے آتا ہے اور سچی معرفت بغیر حقیقی خشیت اور خدا ترسی کے حاصل نہیں ہو سکتی۔ پس یاد رکھو کہ آخرت کے متعلق وساوس کا پیدا ہونا ایمان کو خطرہ میں ڈال دیتا ہے ور خاتمہ بالخیر میں فتور پڑ جاتا ہے۔
ابرار کا طریق زندگی
جس قدر ابرار خیار ،اور راستباز انسان دنیا میں ہو گزرے ہیں جو رات کو اٹھ کر قیام اور سجدہ میں ہی صبح کر دیتے ہیں ۔کیا تم خیال کر سکتے ہو کہ وہ جسمانی قوتیں بہت رکھتے تھے ۔اور برے برے قوی ہیکل جوان اور تنومند پہلوان تھے؟نہیں ۔یاد رکھو اور خوب یاد رکھو کہ جسمانی قوت اور توانائی سے وہ کام ہر گز نہیں ہو سکتے ،جو روحانی قوت اور طاقت کر سکتی ہے۔ بہت سے انسان آپ نے دیکھے ہوں گے جو تین یا چار بار دن میں کھاتے ہیں اورخوب لذیذ اور مقوی اغذیہ پلاو وغیرہ کھاتے ہیں ،مگر اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔ صبح تک خراٹے مارتے رہتے ہیں اور نیند ان پر غالب رہتی ہے۔ یہاں تک کہ نیند اور سستی سے بالکل مغلوب ہو جاتے ہیں کہ ان کو عشاء کی نماز بھی دو بھر اور مشکل عظیم معلوم دیتی ہے؛ چہ جائیکہ وہ تہجد گزار ہوں۔
دیکھو! آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے صحابہ کبار رضوان اللہ علیہم اجمعین کیا تنعم پسند اور خورد ونوش کے دلدادہ تھے۔ جو کفار پر غالب تھے؟نہیں یہ بات تو نہیں۔ پہلی کتابوں میں بھی ان کی نسبت آیا ہے کہ وہ قائم اللیل اور سائم الدبر