حاصل ہوتا ہے۔وقد افلح من زکھا (الشمس:۱۰) پر عمل کرنے سے ملتا ہے۔ جب انسان عبادت کا اصل مفہوم اور مغز حاصل کرلیتا ہے، تو خداتعالیٰ کے انعام واکرام کا پاک سلسلہ جاری ہوجاتا ہے اور جو نعمتیں آئندہ بعد مُردن ظاہری۔ مرئی اور محسوس طور پر ملیں گی وُہ اب رُوحانی طور پر پاتا ہے۔ پس یادرکھو کہ جب تک بہشتی زندگی اسی جہان سے شروع نہ ہو۔ اورا س عالم میں اُس کا حظ نہ اُٹھائو۔ اُس وقت تک سیر نہ ہو اور تسلی نہ پکڑو۔ کیونکہ وُہ جو اس دنیا میں کچھ نہیں پاتا اور آئندہ جنت کی اُمید کرت اہے وہ طمع خام کرتا ہے۔ اصل میں وُہ من کان فی ھذہ اعمی فھوفی الاخرۃ اعمی (بنی اسرائیل:۷۳) کا مصداق ہے۔ اس لیے جب تک ماسوی اللہ کے کنکر اورسنگریز ے زمین دِل سے دُور نہ کرلو اور اُسے آئینہ کی طرح مُصفااور سرمہ کی طرح باریک نہ بنالو۔ صبر نہ کرو۔
مُرشدِ کامل کی ضرورت ہاں یہ سچ ہے کہ انسان کی مُزَ کی النفس کی امداد کے بغیر اس سلوک کی منزل کو طَے نہیں کرسکتا۔ اسی لیے اس کے انتظام و انصرام کے لئے
کے لئے اللہ تعالیٰ نے کاملِ نمونہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھیجا اور پھر ہمیشہ کے لئے آپؐ کے سچے جانشینوں کا سلسلہ جاری فرمایا، تاکہ ناعاقبت اندیش برہموئوں کا رَدّ ہو۔ جیسے یہ امر ایک ثابت شدہ صداقت ہے کہ جو کسان کا بچہ نہیں ہے۔ ملائی (گوڈی دینے) کے وقت اصل درخت کو کاٹ دے گا۔ اسی طرح پر یہ زمینداری جو رُوحانی زمینداری ہے۔ کاملِ طور پر کوئی نہیں کرسکتا، جب تک کسی کامل انسان کے ماتحت نہ ہو۔ جو تخمریزی، آبپاشی، ملائی کے تمام مَرحلے طے کرچکاہو۔ اسی طرح سے معلوم ہوتاہے کہ مُرشد کامل کی ضرورت انسان کو ہے۔ مُرشد کامل کے بغیر انسان کا عبادت کرنا اسی رنگ کا ہے، جیسے ایک نادان و ناواقف بچہ ایک کھیت میں بیٹھا ہو ااصل پودوں کو کاٹ رہا ہے اور اپنے خیال میں سمجھتا ہے کہ وُہ گوڈی کررہا ہے۔ یہ گمان ہر گز نہ کرو کہ عبادت خود ہی آجائے گی۔ نہیں جب تک رسول نہ سکھلائے۔ انقطاع الی اللہ اور تبتلِ تام کی راہیں حاصل نہیں ہوسکتیں۔
اِستغفار اورتوبہ پھر طبعاً سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ مشکل کام کیونکہ حل ہو۔ اس کا علاج خود ہی بتلایا وان استغفر واربکم ثم توبواالیہ (ھود:۴) یادرکھو کہ یہ دوچیزیں اس امت کو عطا فرمائی گئی ہیں۔ ایک قوت حاصل کرنے کے واسطے، دوسری حاصل کردہ قوت کوعملی طور پر دکھانے کے لئے۔ قوتِ حاصل کرنے کے واسطے استغفار ہے جس کو دوسرے لفظوں میں استمداد اور استعانت بھی کہتے ہیں۔ صُوفیوں نے لکھا ہے کہ جیسے ورزش کرنے سے مثلاً مگدروں اور موگریوں کے اُٹھانے او رپھرنے سے جسمانی قوت اور طاقت بڑھتی ہے۔ اسی طرح پر رُوحانی مگدر استغفار ہے۔ اس کے ساتھ رُوح کو ایک قوت ملتی ہے اور دل میں استقامت پیدا ہوتی ہے۔ جسے قوت لینی مطلوب ہو وہ استغفار کرے۔ غفر ڈھانکنے اور دبانے کو کہتے ہیں۔ استغفار سے انسان کو اُن جذبات اور خیالات کو ڈھانپنے اور دبانے کی کوشش کرتا ہے۔