مغز کیا ہے الا تعبدووالا اللہ(ہود:۳) خداتعالیٰ کے سوا ہرگز ہرگز کسی کی پرستش نہ کرو۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان کی پیدائش کی علت غائی یہی عبادت ہے۔ جیسے دوسری جگہ فرمایا ہے وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون (الذریات:۵۷) عبادت کی حقیقت عبادت اصل میں اس کو کہتے ہیں کہ انسان ہر قسم کی قساوت ، کجی کو دُور کرکے دل کی زمین کو ایسا صاف بنادے، جیسے زمیندار زمین کو صاف کرتا ہے۔ عرب کہتے ہیں مور معبد جیسے سُرمہ کو باریک کرکے آنکھوں میں ڈالنے کے قابل بنالیتے ہیں۔ اسی طرح جب دل کی زمین میں کوئی کنکر، پتھر ، ناہمواری نہ رہے اور ایسی صاف ہوکہ گویا رُوح ہی رُوح ہو۔ اس کا نام عبادت ہے؛ چنانچہ اگر یہ درستی اور صفائی آئینہ کی جاوے، تو اس میں شکل نظر آجاتی ہے اور اگر زمین کی کی جاوے، تو اس میں انواع و اقسام کے پھل پید اہوجاتے ہیں۔ پس انسان جو عبدادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ اگر دل صاف کرے اور اس میں کسی قسم کی کجی اور ناہمواری ،کنکر، پتھر نہ رہنے دے، تو اس میں خدانظرآئے گا۔ مَیں پھر کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کے درخت اُس میں پیدا ہوکر نشوونما پائیں گے اور وہ اثمار شیریں وطیب ان میں لگیں گے۔ جو اکلہاد الم (الرعد:۳۶) کے مصداق ہوں گے۔ یادرکھو کہ یہ وہی مقام ہے، جہاں صُوفیوں کے سلوک کا خاتمہ ہے۔ جب سالک یہاں پہنچتا ہے، تو خدا ہی کا جلوہ دیکھتا ہے۔ اس کا دل عرش الہٰی بنتا ہے اور اللہ تعالیٰ اُس پر نزول فرماتا ہے۔ سلوک کی تمام منزلیں یہاں آکر ختم ہوجاتی ہیں کہ انسان کی حالتِ تعبددرست ہو، جس میں رُوحانی باغ لگ جاتے ہیں اور آئینہ کی طرح خدا نظر آتا ہے۔ اسی مقام پر پہنچ کر انسان دُنیا میں جنت کا نمونہ پاتا ہے اور یہاں ہی ھذا الذی رزقنا من قبل واتوابہ متشابھاً (البقرہ:۲۶) کہنے کا حظ اور لُطف اُٹھاتا ہے۔ غرض حالتِ تعبد کی درستی کا نام عبادت ہے، پھر فرمایا: اننی لکم منہ نذیر وبشیر(ھود:۳) چونکہ یہ تعبد تام کا عظیم الشان کام انسان بدُوں کسی اُسوہ ٔ حسنہ اور نمونہ ٔ کاملہ کے اور کسی قوتِ قدسی کے کامل اثر کے بغیر نہیں کرسکتا تھا، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مَیں اسی خدا کی طرف سے نذیر اور بشیر ہوکر آیاہوں۔ اگر میری اطاعت کرو گے اور مجھے قبول کرو گے تو تمہارے لیے بڑی بڑی بشارتیں ہیں۔ کیونکہ مَیں بشیر ہوں اور اگر رَدّ کرتے ہو تو یادرکھو کہ مَیں نذیر ہوکر آیا ہوں۔ پھر تم کو بڑی بڑی عقوبتوں اور دُکھوں کا سامنا ہوگا۔ بہشت اور جہنم اصل بات یہ ہے کہ بہشتی زندگی اِسی دُنیا سے شروع ہوجاتی ہے اور اسی طرح پر کو رانہ زیست جو خداتعالیٰ اور اس کے رسول سے بالکل الگ ہوکربسر کی جائے ۔ جہنمی زندگی کا نمونہ ہے او روہ بہشت جو مرنے کے بعد ملے گا، اسی بہشت کا اصل ہے۔ اسی لیے تو بہشتی لوگ نعماء جنت کا حظ اُٹھاتے وقت کہیں گے۔ ھذاالذی رزقنا من قبل (البقرہ:۲۶) دُنیا میں انسان کو جو بہشت