متبعین کی کامیابیاں متبوع کی ہی کامیابیاں ہوتی ہیں اور یہ سب خوراق اور کامیابیاں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپؐ کے متبعین مجددوں کے ذریعہ سے ہو ئیں اور قیامت تک ہوں گی،درحقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی کامیابیاں ہیں۔ غرض ہر صدی کے سر پر مجدد کا آنا صاف طور پر بتلارہا ہے کہ مرُدوں سے استمداد خداتعالیٰ کی منشاء کے موافق نہیں۔ اگر مُردوں سے مدد کی ضرورت ہوتی، تو پھر زندوں کے آنے کی کیا ضرورت تھی؟ ہزاروں ہزار جو اولیاء اللہ پیدا ہوئے ہیں، اس کا کیا مطلب تھا؟ مجددین کا سلسلہ کیوں جاری کیا جاتا ؟ اگر اسلام مُردوں کے حوالے کیا جاتا تو یقینا سمجھو کہ اس کا نام و نشان مِٹ گیا ہوتا۔ یہودیوں کا مذہب مُردوں کے حوالے کیا گیا۔ نتیجہ کیا ہوا؟ عیسائیوں نے مُردہ پرستی سے بتلائو کیا پایا؟ مُردوں کو پُوجتے پُوجتے خود مردہ ہوگئے۔ نہ مذہب میں زندگی کی رُوح رہی نہ ماننے والوں میں زندگی کے آثار باقی رہے۔ اول سے لے کر آخر تک مُردوں ہی کا مجمع ہوگیا۔ اسلام کا حیّ وقیوم خدا اسلام ایک زندہ مذہب ہے۔ اسلام کا خدا حی وقیوم خداہے۔ پھر وُہ مُردوں سے پیار کیوں کرنے لگا۔ وہ حی و قیوم خداتعالیٰ بار بار مُردوں کو جلاتا ہے ۔یحی الارض بعد موتہا (الحدید:۱۸) تو کیا مُردوں کے ساتھ تعلق پیدا کراکرجلاتا ہے؟ نہیں، ہرگز نہیں۔ اسلام کی حفاظت کا ذمہ اسی حی وقیوم خدا نے انالہ لحافظون(الحجر:۱۰) کہہ کر اُٹھایا ہو اہے۔ پس ہرزمانہ میں یہ دین کی حفاظت کا ذمہ اسی حی وقیوم خدا نے انالہ لحافظون (الحجر:۱۰) کہہ کراُٹھایاہوا ہے۔ پس ہرزمانہ میں یہ دین زندوں سے زندگی پاتا ہے اور مردوں کو جلاتا ہے۔ یادرکھو اس میں قدم قدم پر زندے آتے ہیں۔ قرآن کریم کی تفصیل پھر فرمایا ثم فصلت۔ ایک تو وہ تفصیل ہے، جو قرآن کریم میں ہے۔ دُوسری یہ کہ قرآن کریم کے معارف وحقائق کے اظہارکا سلسلہ قیامت تک دراز کیا گیا ہے۔ ہرزمانے میں نئے معارف اور اسرار ظاہر ہوتے ہیں۔ فلسفی اپنے رنگ میں ، طبیب اپنے مذاق پر، صُوفی اپنے طرز پربیان کرتے ہیں اور پھر یہ تفصیل بھی حکیم و خبیر خدا نے رکھی ہے۔ حکیم اس کو کہتے ہیں کہ جن چیزوں کا علم مطلوب ہو وہ کامل طور پر ہوا ور پھر عمل بھی کامل ہو۔ ایسا کہ ہر ایک چیز کو اپنے اپنے محل وموقع پر رکھ سکے۔ حکمت کے معنی وضع الشیٔ فی محلہ اور کبیر مبالغہ کا صیغہ ہے۔ یعنی ایسا وسیع علم کہ کوئی چیز اس کی خبر سے باہر نہیں؛ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب مجید کو خاتم الکتب ٹھہرایا تھا اور اس کا زمانہ قیامت تک دراز تھا۔ وُہ خوب جانتا تھا کہ کس طرح پر یہ تعلیمیں ذہن نشین کرنی چاہیں؛ چنانچہ اسی کے مطابق تفاصیل کی ہیں۔ پھر اس کا سلسلہ جاری رکھا کہ جو مجدد و مصلح احیائِ دین کے لئے آتے ہیں، وُہ خودمفصّل آتے ہیں۔ قرآن کریم کا خلاصہ اور مغز اس کے بعد ایک عجیب سوال مقدر کے جواب کے طور پر بیان کی ہے یعنی اس قدرتفاصیل جو بیان کی جاتی ہیں۔ان کا خُلاصہ اور