لافیں تو اتنی تھیں کہ خدا کی پناہ اور کام کچھ بھی نہ کیا۔ ساری عمر میں کل ایک سو بیس آدمی تیار کیے اور وہ بی ایسے پست خیال اور کم فہم جو خدا کی بادشاہت کی باتوں کو سمجھ ہی نہ سکتے تھے اور سب سے بڑا مصاحب جس کی بابت یہ فتوی تھا کہ جو زمین پر کرے، آسمان پر ہوت اہے اور بہشت کی کنجیاں جس کے ہاتھ یں تھیں۔ اُسی نے سب سے پہلے *** کی۔ اور وہ جو امین اور خزانچی بنایا ہوا تھا۔ جس کو چھاتی پر لٹاتے تھے، اُسی نے تیس درم لے کر پکڑوادیا۔ اب ایسی حالت میں کب کوئی کہہ سکتا ہے کہ مسیح ؑ نے واقعی ماموریت کا حق ادا کیا۔ اور اس کے مقابل ہمارے نبی کریم ؐ کا کیساپکا کام ہے اس وقت سے جب سے کہا کہ مَیں ایک کام کرنے کے لئے آیا ہوں۔جب تک یہ نہ سُن لیا کہ الیوم اکملت لکم دینکم (المائدہ :۴) آپ ؐ دُنیا سے نہ اُٹھے۔ جیسے یہ دعویٰ کیا تھا کہ انی رسول اللہ الیکم جمیعاً (الاعراف: ۱۵۹) اس دعویٰ کے مناسب حال یہ ضروری تھ اکہ کل دنیا کے مکرو مکاید متفق طور پر آپ ؐ کی مخالفت میں کیے جاتے۔ آپؐ نے کس حوصلہ اور دلیری کے ساتھ مخالفوں کو مخاطب کرکے کہا کہ فکیدونی جمیعاً (ہود:۵۶) یعنی کوئی دقیقہ مکر کا باقی نہ رکھو۔ سارے فریب مکر استعمال کرو۔ قتل کے منصوبے کرو۔ اخراج اور قید کی تدبیریں کرو، مگر یادرکھو سیھزم الجمع ویوتون الدبر(القمر:۴۶) آخری فتح میری ہے۔ تمہارے سارے منصوبے خاک میں مل جائیں گے۔ تمہاری ساری جماعتیں منتشر اور پراگندہ ہوجاویں گی اور پیٹھ دے نکلیں گی۔ جیسے وہ عظیم الشان دعویٰ انی رسول اللہ الیکم جمیعاً کسی نے نہیں کیا اور جیسے فکیدونی جمیعاً کہنے کی کسی کو ہمت نہ ہوئی۔ یہ بھی کسی کے منہ سے نہ نکلا۔ سیھزم الجمع ویولون الدبر یہ الفاظ اسی کے منہ سے نکلے جو خداتعالیٰ کے سائے کے نیچے الوہیت کی چادر میں لپٹا ہو اپڑاتھا۔ غرض ان وجوہات پر ایک اجنبی آدمی بھی نظر ڈالے تو اُس کومعلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے کیسے صاف اورواضح طور پر کتاب اللہ کو مضبوط دمستحکم فرمایا ہے۔ اگر کوئی قانونِ قدرت پر نظر کرتا ہے، تو قول اور فعل کو باہم مطابق پاتا ہے۔ پھر اگر خوراق پر نظرکرتا ہے تو اِس قدر کثرت سے ہیں کہ حدِ شمار سے باہر ہیں۔ یہانتک کہ آپ ؐ کاقول و فعل اور حرکات وسکنات سب خوراق ہیں۔ قوتِ قُدسیہ کو دیکھتا ہے توصحابہ کرام ؓ کی پاک تبدیلی حیرت میں ڈالتی ہے۔پھر کامیابی کو دیکھتا ہے تو دُنیا بھر کے ماموروں اور مُرسلوں سے بڑھ کر تھے۔ اِن وجوہات احکام آیات کے علاوہ میرے نزدیک اور بھی بہت سے وجوہات ہیں۔ منجملہ ان کے ایک الٓرٰ کے لفظ رٰ سے پتہ لگتا ہے کہ یہ لفظ مجددوں اور مُرسلوں کے سلسلۂ جاریہ کی طرف اشارہ کرتا ہے جو قیامت تک جاری ہے۔ اب اس سلسلہ میں آنے والے مجددوں کے خوراق ان کی کامیابیوں ، ان کی پاک تاثیروں وغیرہ وجوہات احکام آیات کو گن بھی نہیں سکتے۔