چوتھا احکام جوایک زبردست وجہ استواری اور استحکام کی ہے۔ نبی کی قوت قدسیہ ہے۔ جس سے فائدہ پہنچتا ہے۔ جیسے طیب خواہ کتنا ہی دعویٰ کرے کہ مَیں ایسا ہوں اور اس کو سدیدی خواہ نوکِ زبان ہی کیوں نہ ہو، لیکن اگر لوگوں کو اُس سے فائدہ نہ پہنچے تو یہی کہیں گے کہ اُس کے ہاتھ میںشِفا نہیں ہے۔ اسی طرح پر نبی کی قوتِ قدسی جس قدر زبردست ہو۔ اُسی قدر اُس کی شان اعلیٰ اور بلند ہوتی ہے۔ قرآن کریم کی تعلیم کے استحکام کے لئے یہ پشتیبان بھی سب سے بڑا پشیتبان ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی قوتِ تقدسی اس درجہ پہ پہنچی ہے کہ اگر تمام انبیاء علیھم السلام کے مقابلہ میں دیکھیں ، تو معلوم ہوگا کہ آپؐ کے مقابلہ میں کچھ نہیں کیا۔یہودی دُنیا کے کتے ہیں۔ عیسائیوں کو دیکھو تو وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کے چشمے سے دُور جاپڑے۔ کوئی حضرت مریم ؑ کی پرستش کرتا ہے ۔ کوئی مسیح ؑ کو خداجانتا ہے اور دُنیا پرستی ہی شب و روز کا شغل اور کام ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تیارکردہ جماعت کو اگر دیکھا جاوے، تو وہ ہمہ تن خدا ہی کے لئے نظر آتے ہیں اور اپنی عملی زندگی میں کوئی نظیر نہیں رکھتے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مُبارک اور کامیاب زندگی کی تصویر یہ ہے کہ آپؐ ایک کام کے لئے آئے اور اُسے پورا کرکے اس وقت دُنیا سے رُخصت ہوتے جس طرح بندوبست والے پورے کاغذات پانچ برس میں مرتب کرکے آخری رپورٹ کرتے ہیں اورپھر چلے جاتے ہیں۔ اسی طرح پررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں نظر آتا ہے۔ اُس دن سے لے کر جب قم فانذر(المدثر:۳) کی آواز آئی۔ پھر اذا جاء نصر اللہ (النصر:۲) الیوم اکملت لکم دینکم (المائدہ:۴) کے دن تک نظر کریں، تو آپؐ کی لانظیر کامیابی کا پتہ ملتاہے۔ ان آیات سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ خاص طور پر مامور تھے۔ حضرت موسیٰ ؑ کو اپنی زندگی میں وہ کامیابی نصیب نہ ہوئی جو اُن کی رسالت کا منتہا تھی۔ وہ ارضِ مقدس اور موعود سرزمین کو اپنی آنکھ سے نہ دیکھ سکے، بلکہ راہ ہی میں فوت ہوگئے۔ کافر کب مان سکتا ہے اور ایک بے ایمان آدمی راہ میں فوت ہوجانے اور وعدہ کی زمین میں نہ پہنچ سکنے کی وُجوہات کب سننے لگا۔ وُہ تو یہی کہے گا کہ اگر مامور تھے، تو وہ وعدے زندگی میں کیوں پورے نہ ہوئے۔ سچی بات یہی ہے کہ سب نبیوں کی نبوت کی پردہ پوشی ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ہوئی۔ تصویر یُسوع ایسا ہی مسیح علیہ السلام کی زندگی پر نظرکرو۔ ساری رات خود دُعا کرتے رہے۔ دوستوں سے کراتے رہے۔ آخر شکوہ پر اُترآئے اور ایلی ایلی لما سبقتنی  بھی کہہ دیا۔ یعنی اے میرے خدا! تُو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟ اب ایسی حسرت بھری حالت کو دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ یہ مامُور من اللہ ہے۔ جو نقشہ پادریوں نے مسیح کی آخری حالت کا جما کردکھایا ہے، وُہ تو بالکل مایُوسی بخشتا ہے۔