چونکہ اس میں یہی قصہ ہے کہ کونسی چیزیں انسان کو ضروری ہیں۔اس لئے فرمایا کتب احکمت ایتُہ یہ کتاب ایسی ہے کہ اس کی آیات پکی اور استوار ہیں۔ استحکام کتاب اللہ قرآن کریم کی تعلیموں کو اللہ تعالیٰ نے کئی طرح پر مستحکم کیا،تاکہ کسی قسم کا شک نہ رہے۔اور اسی لیے شروع میں فرمایا لاریب فیہ(البقرہ:۳)یہ  استحکام کئی طور پر کیا گیاہے۔ اولاً۔قانون قدرت سے استواری اور استحکام قرآنی تعلیموں کاکیاگیا۔جو کچھ قرآن میں بیان کیا گیا ہے قانون قدرت اس کو پوری مدد دیتا ہے ۔گویا جو قرآن میں ہے،وہی کتاب مکنون میں ہے۔اس کا راز انبیاء علیہم السلام کی پیروی کے بدوں سمجھ میں نہیں آسکتا اور یہی وہ سرّہے جولایمسہ الاالمطھرون(الواقعتہ:۸۰) میں رکھا گیا ہے۔غرض پہلے قرآنی تعلیم کو قانون قدرت سے مستحکم کیا ہے۔مثلاًقرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کی صفت وحدہ لاشریک بتلائی۔جب ہم قانون قدرت میں نظر کرتے ہیں تو ماننا پڑتا ہے کہ ضرور ایک ہی خالق ومالک ہے۔کوئی اس کا شریک نہیں۔دل بھی اسی ہی مانتا ہے اور دلائل قدرت سے بھی اسی کا پتہ لگتا ہے ،کیونکہ ہرایک چیز جو دنیا میں موجودہے وہ اپنے اندر کرویت رکھتی ہے۔جیسے پانی کا قطرہ اگر ہاتھ سے چھوڑیں،تو وہ کروی شکل توحید کو مستلزم ہے اور یہی وجہ ہے کہ پادریوں کو بھی ماننا پڑا کہ جہاں تثلیث کہ تعلیم نہیں پہنچی وہاں کے رہنے والوں سے توحید کی پرتش ہو گی ۔چنانچہ پادری فنڈرؔ نے اپنی تصنیفات میں اس امر کا اعتراف کیا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم دنیا میںنہ بھی ہوتا ،تب بھی ایک ہی خدا کی پرستش ہوتی۔اس سے معلوم ہواکہ قرآن کریم کا بیان صحیح ہے،کیو نکہ اس کا نقش انسانی فطرت اور دل میں موجود ہے اور دلائل قدرت سے اس کی شہادت ملتی ہے۔بر خلاف اس کے انجیلی تثلیث کا نقش نہ دل میں ہے نہ قانونقدرت اس کا مویّد ہے۔ یہی معنے ہیںکتب احکمت ایتہ کے۔یعنی قانون قدرت سے اس کی تعلیموں کو ایسا مستحکم اور استوار کیا گیا ہے کہ مشرک وعیسائی کو بھی ماننا پڑا کہ انسان کے مادہ فطرت سے توحید کی باز پرس ہو گی۔ دوسری وجہ استحکام کہ خداتعالیٰ کے نشانات ہیں،کوئی مامور دنیا میں ایسا نہیں آتا۔جس کے ساتھ تائیدات الہی شامل نہ ہوں اور یہ تائیدت اور نشانات ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہت پرشوکت اور پرقوت تھے۔آپؐ کے حرکات سکنات میں ،کلام میں نشانات تھے۔گویا آپؐ کا وجودازسرتاپانشانات الہی کا پُتلا تھا۔ تیسرا اِحکام نبی کا پاک چال چلن اور راستبازی ہے یہ منجلُہ ان باتوں کے ہے جو عقلمندوں کے نزدیک امین ہونا بھی ایک دلیل ہے۔ جیسے حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اس سے دلیل پکڑی۔